خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 94
خطبات مسرور جلد نهم 94 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء میں اور دوسرے میں مابہ الامتیاز تقویٰ ہے۔اور جب یہ امتیاز باقی نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ پھر دنیا پرستی اور دنیاوی ہوس اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔گو مسلمان کہلاتے ہیں، اسلام کا نام استعمال ہو رہا ہو تا ہے لیکن اسلام کے نام پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پامالی کی جارہی ہوتی ہے۔دولت کو ، اقتدار کی ہوس کو ، طاقت کے نشہ کو خدا تعالیٰ کے احکامات پر ترجیح دی جارہی ہوتی ہے یا دولت کو سنبھالنے کے لئے ، اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیا جارہا ہوتا ہے۔غیر طاقتوں کے مفادات کی حفاظت اپنے ہم وطنوں اور مسلم امہ کے مفادات کی حفاظت سے زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس کے لئے اگر ضرورت پڑے تو اپنی رعایا پر ظلم سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دولت کی لالچ نے سر براہانِ حکومت کو اس حد تک خود غرض بنادیا ہے کہ اپنے ذاتی خزانے بھر نے اور حقوق العباد کی ادنی اسی ادائیگی میں بھی کوئی نسبت نہیں رہنے دی۔اگر سو (100) اپنے لئے ہے تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے ہے۔جو خبریں باہر نکل رہی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ کسی سر براہ نے سینکڑوں کلو گرام سونا باہر نکال دیا تو کسی نے اپنے تہ خانے خزانے سے بھرے ہوئے ہیں۔کسی نے سوئس بینکوں میں ملک کی دولت کو ذاتی حساب میں رکھا ہوا ہے اور کسی نے غیر ممالک میں بے شمار ، لا تعداد جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں اور ملک کے عوام روٹی کے لئے ترستے ہیں۔یہ صرف عرب ملکوں کی بات نہیں ہے۔مثلاً پاکستان ہے وہاں مہنگائی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ بہت سارے عام لوگ ایسے ہوں گے جن کو ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہے۔لیکن سر بر اہ جو ہیں ، لیڈر جو ہیں وہ اپنے محلوں کی سجاوٹوں اور ذاتی استعمال کے لئے قوم کے پیسے سے لاکھوں پاؤنڈ کی شاپنگ کر لیتے ہیں۔پس چاہے پاکستان ہے یا مشرق وسطی کے ملک ہیں یا افریقہ کے بعض ملک ہیں جہاں مسلمان سربراہوں نے جن کو ایک رہنما کتاب، شریعت اور سنت ملی جو اپنی اصلی حالت میں آج تک زندہ و جاوید ہے۔باوجود اس قدر رہنمائی کے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی دھجیاں اڑائی ہیں۔پس امتِ مسلمہ تو ایک طرف رہی یعنی دوسرے ملک جن کے حقوق ادا کرنے ہیں یہاں تو اپنے ہم وطنوں کے بھی مال غصب کئے جارہے ہیں۔تو ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تقویٰ پر چل کر حکومت چلانے والے ہوں گے ، یا حکومت چلانے والے ہو سکتے ہیں۔یہ لوگ ملک میں فساد اور افراتفری پیدا کرنے کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں۔طاقت کے زور پر کچھ عرصہ حکومتیں تو قائم کر سکتے ہیں لیکن عوام الناس کے لئے سکون کا باعث نہیں بن سکتے۔پس ایسے حالات میں پھر ایک رد عمل ظاہر ہوتا ہے جو گواچانک ظاہر ہو تا ہوا نظر آرہا ہو تا ہے لیکن اچانک نہیں ہو تا بلکہ اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا ہوتا ہے جو آب بعض ملکوں میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے اور بعض میں اپنے وقت پر ظاہر ہو گا۔جب یہ لاوا پھٹتا ہے تو پھر یہ بھی طاقتوروں اور جابروں کو بھسم کر دیتا ہے۔اور پھر کیونکہ ایسے رد عمل کے لئے کوئی معین لائحہ عمل نہیں ہوتا۔اور مظلوم کا ظالم کے خلاف ایک رد عمل ہوتا ہے۔اپنی گردن آزاد کروانے کے لئے اپنی تمام تر قوتیں صرف کی جارہی ہوتی ہیں۔اور جب مظلوم کامیاب ہو جائے تو وہ بھی ظلم پر