خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 4
4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہے کہ جن میں سے بعض آج بہت زیادہ حیثیت کے ہو چکے ہیں، مالی لحاظ سے بہتر ہو چکے ہیں کہ اُن کی قربانیوں کو اب واپل تیز بارش کا نمونہ دکھانا چاہئے۔یہ صورت اختیار کرنی چاہئے تاکہ اُن کے اور ان کی نسلوں کے اعمال کے درخت ہمیشہ سر سبز رہتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ایک روپیہ قربانی کرنے والے کا ذکر بھی اپنی کتابوں میں فرمایا ہے جو معمولی قربانی تھی، جس نے مستقل اپنے اوپر لازم کر لیا تھا کہ ایک روپیہ ہر مہینہ ادا کریں گے۔آپ کے صحابہ کے کیسے کیسے قربانی کے نمونے تھے اُن میں سے میں ایک مثال دیتا ہوں۔چوہدری عبد العزیز صاحب احمدی او جلوی پٹواری تھے۔اُن کے بارے میں قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری فرماتے ہیں کہ گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مالی قربانی کی تحریک کی۔چوہدری عبد العزیز صاحب پٹواری خود آکر حضور علیہ السلام کی خدمت میں ایک سور و پیہ چاندی کا پیش کر کے گئے اور کہا کہ خاکسار کے پاس یہی رقم موجود تھی جو میں لے آیا ہوں۔قاضی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس پٹواری کی اس قربانی پر بڑی حیرت ہوئی اور رشک بھی آیا کہ ایک پٹواری جس کو چھ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے اس نے کس طرح اخلاص کے ساتھ قربانی پیش کی ہے۔قاضی صاحب پھر لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کے اخلاص کے عوض اس پر بڑے فضل کئے۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں تقویٰ بہت تھا۔تقویٰ میں بڑھے ہوئے تھے۔آپ سے جو براہ راست فیض پارہے تھے اس کی وجہ سے اُن کے تقویٰ کے معیار بہت بلند تھے۔چوہدری صاحب بھی تقویٰ میں بڑھے ہوئے تھے۔دوسرے پٹواریوں کی طرح نہیں تھے۔ہمارے ملک میں پٹواریوں کے بارے میں مشہور ہے کہ تنخواہ بیشک ان کی تھوڑی ہو لیکن ان کی زائد آمدنی بہت زیادہ ہو جاتی ہے جو مختلف ذریعوں سے وہ زمینداروں سے ، چھوٹے زمینداروں سے وصول کرتے رہتے ہیں۔اور بعض ایسے بھی ہیں جو جب ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کے پاس دولت بھی ہوتی ہے، کئی کئی ایکڑوں کے مالک ہوتے ہیں بلکہ سو سو ایکڑوں کے مالک بن جاتے ہیں۔مجھے یاد آیا کہ میرے ساتھ سکول میں ایک پٹواری کا لڑکا پڑھا کرتا تھا اور اس کا رہن سہن رکھ رکھاؤ، کپڑے ایسے ہوتے تھے جو ہزاروں کمانے والا کوئی بچہ بھی نہیں رکھ سکتا۔اور خود بتاتا تھا کہ میرے باپ کی تنخواہ تو پینتالیس روپے ہے لیکن اللہ کا بڑا فضل ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جو معیار ہیں وہ بدل گئے ہیں۔جو ناجائز آمد ہے وہ اللہ کا فضل بن گیا اور جو جائز آمد ہے وہ حکومت کی تنخواہ بن گئی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر ہمیں بتایا کہ صحیح اللہ کا فضل کیا ہوتا ہے۔اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کسی مہدی کی ضرورت ہے ، نہ مسیح کی ضرورت ہے ، نہ مصلح کی ضرورت ہے۔اگر اس چیز کو یہ تسلیم کر لیں کہ اس کی ضرورت ہے اور ماننے والے کو مان لیں تو تب صحیح پہچان ہو سکتی ہے کہ اللہ کا فضل کس طرح ہوتا ہے اور کیا چیز ہے؟ یہ تو احمدی کو پتہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانی کا کرنا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا فضل کس طرح ہوتا ہے ؟ واہل ہو یا طل، تیز بارش