خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 79

79 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی اُن صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔تو ایک آدمی نے پوچھا۔یارسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں؟ جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی اُن میں شامل نہیں ہوئے۔حضور صلى الل لم نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔اُس شخص نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی علیہ ہم نے اپنا ہاتھ اُن کے کندھے پر رکھا اور فرمایا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا (یعنی زمین سے اُٹھ گیا) تو ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اُس کو واپس لائیں گے۔رَجُلٌ اور رِجَال دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔(صحیح بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الجمعة باب قوله و آخرین منھم۔۔۔حدیث نمبر 4897) بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ تو بعد کا ہے لیکن اس سے پہلے بھی آپ اسلام کی خدمت پر کمر بستہ تھے۔اور جب آپ کو الہام الہی کے تحت صدی کا مجدد ہونے کا علم ہوا تو آپ نے ایک اشتہار انگریزی اور اردو میں شائع فرمایا اور اعلان فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس صدی کا مجدد مقرر فرمایا ہے اور میں اس کام پر مامور کیا گیا ہوں کہ میں اسلام کی صداقت تمام دوسرے دینوں پر ثابت کروں اور دنیا کو دکھاؤں کہ زندہ مذہب، زندہ کتاب اور زندہ رسول اب اسلام اور قرآن اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ہم ہیں۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے اندر روحانی طور پر مسیح ابن مریم کے کمالات ودیعت کئے گئے ہیں۔اور آپ نے تمام دنیا کے مذاہب کو دعوت دی اور چیلنج کیا کہ وہ آپ کے سامنے آکر اسلام کی صداقت کا بیشک امتحان لے لیں۔اور اب اسلام ہی ہے جو روحانی امراض سے شفا کا ذریعہ بن سکتا ہے ، نہ کہ کوئی اور دین۔اس اعلان نے ہندوستان کے مختلف مذاہب میں ایک زلزلہ سا پیدا کر دیا مگر کسی میں جرات نہیں ہوئی کہ آپ کے اعلان کے مطابق اسلام کی صداقت کا تجربہ کرے۔بڑے بڑے پادری جو اسلام چھوڑ کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے تھے۔جیسے عماد الدین وغیرہ، انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ کسی قسم کے مقابلے کی یا نشان مانگنے کی ضرورت نہیں۔لیکن ایک پادری سوفٹ (Swift) اور لیکھرام وغیرہ جنہوں نے گو بظاہر آمادگی ظاہر کی لیکن بعد کے واقعات نے ان کی آمادگی کو بھی واضح کر دیا کہ یہ صرف دکھاوا تھا۔اس سب کی تفصیل جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں موجود ہے۔تاریخ احمدیت میں موجود ہے۔اس وقت بیان تو نہیں ہو سکتی۔بہر حال اس دعوت نے جو اسلام کی صداقت کے لئے آپ نے دی تھی اور جو اشتہار آپ نے شائع فرمایا تھا، اس کا ازالہ اوہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی یوں ذکر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : یہ عاجز اسی قوتِ ایمانی کے جوش سے عام طور پر دعوتِ اسلام کے لئے کھڑا ہوا اور بارہ ہزار کے قریب اشتہارات دعوتِ اسلام رجسٹری کرا کر تمام قوموں کے پیشواؤں اور امیروں اور والیانِ ملک کے نام روانہ کئے۔یہاں تک کہ ایک خط اور ایک اشتہار بذریعہ رجسٹری گورنمنٹ برطانیہ کے شہزادہ ولی عہد کے نام بھی روانہ کیا اور