خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 61

خطبات مسرور جلد نهم 61 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، انہیں آج احمدیوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے۔دشمن بار بار ہم سے یہ سلوک کرتا ہے اور ہم بار بار ان آیات کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے دہراتے رہتے ہیں۔جان، مال کی قربانیاں چاہے انڈو نیشیا کا احمدی دے رہا ہو ، یا پاکستان کا احمدی دے رہا ہو ، یا کسی اور ملک کا احمدی دے رہا ہو ، جو مومنانہ شان کا مظاہرہ کرنے کی روح آنحضرت علی کرم کے عاشق صادق نے ایک احمدی کے دل میں پھونک دی ہے وہ ہر جگہ کے رہنے والے احمدی میں ایک قدر مشترک ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر جو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، خدا تعالیٰ کی خاطر جو ہم سے قربانی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی جواب کی تلقین فرمائی ہے اور اسی جواب کا عملی مظاہرہ ہمارے آقا وسید حضرت محمد مصطفی صلی علی یم نے فرمایا تھا اور یہی روح آپ نے اپنے صحابہ میں پھونک دی تھی جنہوں نے اس کے عملی نمونے دکھائے۔بلکہ ہر نبی کے ماننے والے پر جب اس کے دشمنوں نے زندگیاں تنگ کیں، ہر زمانے کے فرعون نے جب ایمان لانے والوں کو جان سے ہاتھ دھونے یا اپنے ایمان سے پھر جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی شرط رکھی تو ایمان لانے والوں نے ہمیشہ اپنے ایمان کی مضبوطی کا ہی اظہار کیا۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی جب شعبدہ دکھانے والوں پر یہ ظاہر ہو گیا کہ ہمارے جادو کے مقابلے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام جو پیش کر رہے ہیں وہ دنیاوی جادو نہیں ہے بلکہ تائید الہی ہے اور ایک ایسا نشان ہے جس کا دنیاوی تدبیر وں سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔جب اُن پر یہ حقیقت کھل گئی کہ جو پیغام حضرت موسیٰ علیہ السلام دے رہے ہیں وہ الہی پیغام ہے تو وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے۔اس پر فرعون کی فرعونیت کو بڑی ٹھیس پہنچی۔غصہ سے لال بھبھوکا ہو گیا۔اُس نے کہا کہ تمہارے اس فعل کی میں تمہیں ایسی عبرتناک سزا دوں گا جو ہمیشہ یاد رہے گی تو اس پر ایمان لانے والوں نے فرعون کو یہی جواب دیا تھا کہ ہم تمہیں خدا تعالیٰ کے نشانات پر فوقیت نہیں دے سکتے ، خدا تعالیٰ پر ایمان پر فوقیت نہیں دے سکتے۔فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيوةَ الدُّنْيَا (طه: 73)۔یعنی پس ہمارے ایمانوں کو پھیر نے کے لئے تو جتنازور لگا سکتا ہے لگالے۔تو صرف ہماری اس دنیاوی زندگی کو ہی ختم کر سکتا ہے۔لیکن ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان ہو کر ہمیں جو ملنے والا ہے وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے جس کا تیری بادشاہت تصور بھی نہیں کر سکتی۔پس اگر موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اس ایمان کا مظاہرہ کر سکتے ہیں تو ہم تو اُس افضل الرسل اور خاتم الانبیاء علی الیکم کے ماننے والے ہیں جس پر کامل شریعت اتری، جس پر عمل کرنے سے ہم ایمانوں کی انتہا تک پہنچ سکتے ہیں۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ یکم کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے اُس مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں جس نے ایمان ثریا سے لا کر پھر ایک سلسلہ نشانات کے ذریعہ ہمارے ایمانوں کو مضبوط کیا۔پس کیا ہم آج کے فرعونوں یا فرعون کے چیلوں سے ڈر کر اپنا ایمان ضائع کر دیں گے ؟ جبکہ ہمیں تو خدا تعالیٰ بَشِّرِ الصُّبِرِین کی خوشخبری دے رہا ہے۔ہمیں ہمارے صبر کے مظاہروں اور جان کے نذرانے پیش کرنے پر ہمیشہ کی زندگی کی بشارت دے رہا ہے۔پس جو لوگ ایمان کی اس حالت پر پہنچے ہوں انہیں نہ دھمکیاں اپنے نیک مقاصد سے ہٹا سکتی ہیں ، نہ ظلم و بربریت کی انتہا اپنے ایمانوں پر قائم رہنے سے روک سکتی ہے۔پس اے دشمنانِ احمدیت! جو دنیا کے