خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 56

56 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہو گی۔پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔یعنی یہ صرف بد عہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔اور جس رسول صلی اللہ یلم کی طرف منسوب ہو رہے ہیں، انہوں نے کیا توقع آپ سے رکھی ہے۔انہوں نے تجارت میں تو سوال ہی نہیں جنگی معاہدات میں بھی اور عام معاہدات میں بھی اپنا کیا اسوہ قائم کیا ہے اور کس طرح باریکی سے اس کو پورا فرمایا کہ دنیا کے کسی معاہدے میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔مثلاً صلح حدیبیہ کا معاہدہ جب ابھی لکھا جار ہا تھا، زبانی شرطیں طے ہو رہی تھیں تو مکہ سے آنے والے ایک صحابی کو آپ نے کفار کے مطالبے پر واپس بھجوا دیا۔آپ نے انہیں یہ نہیں کہا کہ ابھی تو شرائط نہیں لکھی گئیں اس لئے واپس نہیں جائے گا۔لیکن کیونکہ زبانی ہو چکا تھا، لکھی جارہی تھیں آپ نے فرما یا ٹھیک ہے تم واپس جاؤ، جب کہ آپ کو علم بھی تھا کہ اس کے واپس جانے سے اس کی جان کو بھی خطرہ ہے۔(السيرة النبوية لابن هشام "الامر الحديبية على يكتب شروط الصلح صفحه 687 دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) تو یہ تھے آپ کے معیار۔پس آج آپ کے غلام صادق کے غلاموں نے بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔(پھر ایک دفعہ آپ) بازار میں جارہے تھے۔آپ نے ایک ڈھیری پر ہاتھ ڈالا جو گندم کی یا مکئی کی تھی تو پیچ میں آپ کو گیلی گندم نظر آئی۔آپ نے کہا تم یہ دھوکہ دے رہے ہو اور ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا۔(صحیح ابن حبان كتاب البيوع ذكر الزجر عن غش المسلمين بعضهم بعضا۔۔۔۔۔۔حديث 4905 دارالمعرفة بيروت 2004ء) تو ہم نے اس قسم کے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔تب ہی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہوتے ہوئے ہم حقیقی نصیحت کرنے والے بن سکیں گے۔پھر ایک علامت منافق کی یہ ہے کہ بحث کرتے ہیں تو فحش کلامی کرتے ہیں، گالم گلوچ پر آ جاتے ہیں۔(بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق حدیث نمبر 34) اب یہ خصوصیت آج کل ہم اپنے مخالفین میں دیکھتے ہیں کہ کتنی زیادہ ہے ؟ اس کا ہر وہ ٹی وی چینل اور ویب سائٹ خود اظہار کر رہے ہیں جو جماعت کے خلاف چل رہے ہیں۔پس ایک احمدی کا فرض ہے کہ اس بات سے بچیں۔یہ جو نشانی ہے جس کا مخالفین کی طرف سے اظہار ہو رہا ہے یہ انہی کا حصہ ہے۔ایک احمدی کو اس سے ہمیشہ بیچنا چاہئے اور کبھی سختی کا جواب اس رنگ میں نہیں دینا چاہئے جس سے گالم گلوچ یا فحش کلامی کی صورت پید اہو جائے۔ہمارے سامنے ہمیشہ وہ اسوہ ہو نا چاہئے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی علی کلم نے قائم فرمایا۔اور پھر آپ کے غلام صادق، مسیح الزمان علیہ السلام نے ہمیں دکھایا کہ منہ پر لوگ آپ کو برابھلا کہتے رہے لیکن کبھی اُس رنگ میں جواب نہیں دیا بلکہ صرف نظر ہی فرمایا۔آپ تو رحمت للعالمین تھے۔آپ سے تو ہر ایک کو صرف نرمی ہی نہیں بلکہ سختی کے جواب میں بھی رحمت ملی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھے جو ایمان کو برباد کرنے والی ہیں اور معاشرے کے امن کو برباد کرنے والی ہیں۔ہم ہمیشہ حقیقی رنگ میں تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ پر عمل کرنے والے ہوں۔آج بد قسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت میں انہی بیماریوں کی وجہ سے مسلمانوں کی بدنامی ہو رہی ہے۔یہ