خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 55
خطبات مسرور جلد نهم 55 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء پھر آنحضرت نے منافق کی ایک نشانی یہ بتائی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔جو بات کرے گا اس میں جھوٹ کی ملونی ہوگی۔(بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق حديث نمبر 33) جھوٹ بولنے والے کے لئے کتنی خطر ناک تنبیہ ہے اور اگر دیکھیں تو یہ قول و فعل کا تضاد ہے اور یہ تضاد ہی منافقت ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ ہے دوسری طرف جھوٹ ہے۔گویا جھوٹ کو خدا تعالیٰ کے مقابلے پر لا کھڑا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے جھوٹ اور بت پرستی کو ایک جگہ بیان فرمایا یعنی جھوٹ اور شرک کو اکٹھا فرمایا۔یہ دو باتیں جس میں جمع ہو جائیں یا صرف جھوٹ ہی بولنے والا ہو تو وہ مشرک ہے۔اور اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ جھوٹ ہے تو ہر ایک جانتا ہے کہ یہ غلط بیانی ہے اور بڑا واضح نفاق ہے۔یعنی اس طرح انسان جھوٹ بول کر اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بجائے شرک کے زیادہ قریب ہو رہا ہوتا ہے۔منہ سے بیشک یہ دعویٰ ہے کہ میں مومن ہوں لیکن عمل اس کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت جھوٹ اور سچ کے اس فرق کو بھول بیٹھی ہے۔پس آج اگر احمدیوں نے اس کے خلاف جہاد نہ کیا، اپنے نفس اور اپنے ماحول کو اس سے پاک کرنے کی کوشش نہ کی تو ایک ایسا داغ دل میں لگانے والے بن جائیں گے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے اور اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اصلاح کے لئے آئے تھے، شریعت کے قیام کے لئے آئے تھے ، اللہ تعالیٰ کا رنگ چڑھانے کے لئے آئے تھے۔اپنے آقا حضرت محمد مصطفی صل اللہ نیم کی کامل پیروی کرتے ہوئے آپ کی اتباع میں آئے تھے۔اگر ہم میں بھی جو آپ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں جھوٹ قائم رہے گا تو شریعت کا قیام کس طرح ہو گا؟ یہ جتنے دعوے ہم کر رہے ہیں یہ کس طرح پورے ہوں گے ؟ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کو دیکھیں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے پر نظر ڈالنی چاہئے کہ کس حد تک ہماری اصلاح ہو رہی ہے۔آنحضرت نے منافق کی تیسری علامت یہ بتائی کہ جب عہد کرے، معاہدے کرے تو غداری کرتا ہے۔( بخاری کتاب الایمان باب علامہ المنافق حدیث نمبر 33) اُن کو ایفاء نہیں کرتا۔بد عہدی کرتا ہے۔آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔کاروباروں میں بد عہدی ہے۔روزمرہ کے معاملات میں بد عہدی ہے۔قومی سطح پر اتنی بد عہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بد عہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جو اچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اری جو باسمتی چاول نہیں ہو تا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔اور یہ کوئی پر واہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی