خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد نهم 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء مسلمان شریک ہوئے تھے اور اُن کی تعداد تین ہزار تک تھی۔صلح حدیبیہ کے وقت پندرہ سو افراد کا قافلہ تھا جو آپ کے ساتھ مکہ گیا تھا۔صلح حدیبیہ تک یہ تقریبا پانچ سال کا عرصہ بنتا ہے۔لیکن صلح حدیبیہ سے لے کر فتح مکہ تک پونے دو سال میں جو لشکر آنحضرت صلی علیہ نام کے ساتھ مکہ گیا، اُس کی تعداد دس ہزار تھی۔پس یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امن کے جو دو سال تھے ، ان میں اسلام زیادہ پھیلا ہے۔اسی طرح امن اور پیار کی تبلیغ کے بہت سے واقعات ہیں۔عفو کے بہت سے واقعات ہیں جس نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کیا۔آنحضرت صلی ال نیم کے عفو، در گزر اور شفقت کے سلوک کے واقعات گزشتہ خطبات میں بھی میں بیان کر چکا ہوں۔آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ یہ آپ نے کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ بے شک یہ میرا پیارا ترین ہے اور قریب ترین ہے مگر انبیاء سے لوگوں کے سلوک کا جو طریق چلا آ رہا ہے وہ اس سے بھی ہو گا۔آپ کو فرمایا اے نبی! تجھ سے بھی (ایسا) ہو گا لیکن تو نے صبر ، تحمل، برداشت، عفو، مستقل مزاجی سے تبلیغ کا یہ کام کرتے چلے جانا ہے۔سوائے اس کے کہ کوئی جنگ ٹھونسے ، حتی الوسع سختی سے پر ہیز کرنا ہے۔ہرزہ سرائیوں پر بیہودہ گوئیوں پر ، ایذاء دہی پر صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھاتے چلے جانا ہے کہ اسلام کا محبت اور امن کا پیغام اسی طرح پھیلنا ہے۔قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ نے ان سب باتوں کو کس طرح بیان فرمایا ہے اور کیا نصیحت فرمائی ہے ؟ وہ میں بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ ق میں فرماتا ہے کہ فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوبِ (ق: 40)۔پس صبر کر اس پر جو وہ کہتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر ، سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب سے پہلے بھی۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دلائی کہ یہ طعن و تشنیع جو دشمن کرتا ہے وہ تو ہونی ہے ، آپ صبر کے ساتھ اسے برداشت کریں۔قرآنِ کریم ان پیشگوئیوں سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی غالب آئیں گے۔آخر کار کامیاب وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے ساتھ ، اس تعلیم کے ساتھ نصیحت کرتا چلا جا، تنبیہ کرتا چلا جا۔پس جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس نے نصیحت اور سے ڈر کر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والا بن جائے گا۔پھر خدا تعالیٰ نے دشمن کی زبان درازیوں پر آنحضرت صلی علیہ تم کو کیار و یہ اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ بَاعَ : فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَسِقُونَ (احقاف : 36) پس صبر کر جیسے b در تنبیه اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے بارہ میں جلد بازی سے کام نہ لے۔جس دن وہ اسے دیکھیں گے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تو یوں لگے گا جیسے دن کی ایک گھڑی سے زیادہ وہ انتظار میں نہیں رہے۔پیغام پہنچایا جا چکا ہے۔پس کیا بد کرداروں کے سوا بھی کوئی قوم ہلاک کی جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو نظام نو آپ کی آمد سے جاری ہو نا تھاوہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے وہ جاری ہو چکا