خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد نهم 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء ہوا۔دُنو، اقرب سے زیادہ آبلغ ہے۔اس لئے یہاں یہ لفظ اختیار کیا۔(یعنی دُنو، قرب کی نسبت زیادہ انتہائی اور وسیع معنی دیتا ہے۔قرب میں تو صرف قربت کا تصور پیدا ہوتا ہے لیکن دنو میں اتنا قرب ہے، یعنی کہ ایک ہو جانا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ) ”جب اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا تو پھر بنی نوع پر رحمت کے لئے نزول فرمایا۔یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء: 108) میں فرمایا ہے (کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر رَحْمَةً لِلْعَلَمينَ بنا کر )۔آنحضرت صلی علیم کے اسم قاسم کا بھی یہی ستر ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔پس مخلوق کو پہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا۔دنا فتدلی میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت صلی علیم کے علو مر تبہ کی دلیل ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 356 مطبوعہ ربوہ) الله پس آپ کے نزول سے جو نئے زمین و آسمان پیدا ہوئے، جس میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے انتہائی درجہ کا قرب پا کر انسانوں کی نجات اور خدا تعالیٰ سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کا مقام بھی حاصل کیا۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کا مقام عطا فرمایا۔آپ سے محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ افلاک بھی خدا تعالیٰ کے آپ سے خاص پیار کے نتیجہ میں آپ کے لئے پیدا کئے گئے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی علو شان کے لئے ہم اس حدیث قدسی کو صحیح تسلیم نہ کریں۔پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر آنحضرت صلی علی ایم کے اس مقام کو پہچانا ہے۔اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: لَوْلاكَ لَمّا خَلَقْتُ الافلاک میں کیا مشکل ہے؟ قرآنِ مجید میں ہے خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة:30)، زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے۔تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لئے افلاک بھی ہوں؟“۔( اگر زمین میں سب کچھ عام انسانوں کے لئے ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص آدمیوں کے لئے افلاک کی پیدائش بھی کر سکتا ہے)۔فرمایا کہ ” دراصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشاء کا خدا تعالیٰ کی رضامندی کے موافق کام لے۔اور جن پر اس کا تصرف نہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں، سورج، چاند ، ستارے وغیرہ“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 213 مطبوعہ ربوہ) یعنی جس پر انسان کا تصرف نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ سب انسان کے کام پر لگے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ چیزیں سب سے زیادہ آنحضرت صلی علیکم کے لئے کام کر رہی ہیں۔ماضی میں بھی کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔آپ صلی اللہ نام کے زمانے میں شق القمر کا واقعہ ہوا۔یہ ایک معجزہ تھا۔دنیا نے دیکھا۔اس کی تفصیلات اس وقت بیان نہیں کروں گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی بات بیان فرمائی ہے اور ثابت فرمایا ہے کہ یہ معجزہ ہوا۔(ماخوذ از سرمه چشم آر یہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 60 حاشیہ )