خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 425
425 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم تعالیٰ خود ہی فرماتا ہے کہ اُن کی نمازیں قبول نہیں ہو تیں۔اس لئے کہ اُس کا حق ادا نہیں ہوتا۔بعض لوگ خود کہتے ہیں کہ نماز میں مزہ نہیں آتا۔وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: و بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں لذت نہیں آتی مگر میں بتلاتا ہوں کہ بار بار پڑھے اور کثرت کے ساتھ پڑھے۔تقویٰ کے ابتدائی درجہ میں قبض شروع ہو جاتی ہے اُس وقت یہ کرنا چاہئے کہ خدا کے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کا تکرار کیا جائے۔شیطان کشفی حالت میں چور یا قزاق دکھایا جاتا ہے اس کا استغاثہ جناب الہی میں کرے کہ یہ قزاق لگا ہوا ہے تیرے ہی دامن کو پنجہ مارتے ہیں جو اس استغاثہ میں لگ جاتے ہیں “ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں مشغول ہو جاتے ہیں دعاؤں میں شیطان کے خلاف۔فرمایا ”جو اس استغاثہ میں لگ جاتے ہیں اور تھکتے ہی نہیں وہ ایک قوت اور طاقت پاتے ہیں جس سے شیطان ہلاک ہو جاتا ہے مگر اس قوت کے حصول اور استغاثے کے پیش کرنے کے واسطے ایک صدق اور سوز کی ضرورت ہے۔“ (سچائی بھی ہو اور بڑی درد ہو اس دعا کو مانگنے کے لئے) ”اور یہ چور کے تصور سے پید اہو گا“۔( یہ درد کس طرح پیدا ہو گا؟ یہ سچائی سے آگے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا کس طرح پیدا ہو گا؟ جب یہ تصور کیا جائے کہ شیطان چور کی طرح میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔اور یہ چور کے تصور سے پیدا ہو گا جو ساتھ لگا ہوا ہے۔وہ گویا ننگا کرنا چاہتا ہے اور آدم والا ابتلاء لانا چاہتا ہے۔اس تصور سے روح چلا کر بول اُٹھے گی۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ (الحکم 17 فروری 1901 جلد نمبر 5 شمارہ نمبر 6 صفحہ نمبر 2 کالم نمبر 3) ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحہ 208) جیسا کہ پہلے بھی میں نے مثال دی کہ صحابہ یا جن لوگوں کو عرفان حاصل ہے وہ کس طرح نماز میں اسی لفظ کو بار بار دہراتے چلے جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بھی حق ادا کریں اور اُس سے مدد چاہتے ہوئے شیطان سے بھی بچیں اور پھر مزید اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔6699 پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا ”نمازوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا تکرار بہت کرو۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ خدا کے فضل اور گمشدہ متاع کو واپس لاتا ہے “ جیسا کہ میں نے پہلے بھی مثال دی تھی کہ یہ بار بار کا جو تکرارہے یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں) کہ گمشدہ متاع کو واپس لاتا ہے۔“ ( جو سامان انسان سے کھویا گیا ہے اُس کو اِيَّاكَ نَعْبُدُ واپس لے کے آتا ہے۔) ( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 469 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ ان شہ پاروں کو ، جواہر پاروں کو اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے والا بنائے اور ہم خدا تعالیٰ کے اُن بندوں میں شامل ہو جائیں جن کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی استعانت حاصل رہتی ہے اور جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھتا ہے۔اور اس رمضان سے ہم بھر پور فائدہ اُٹھانے والے ہوں۔جو بقیہ دن رہ گئے ہیں ان میں خاص طور پر دعاؤں پر بہت زور دیں۔الفضل انٹر نیشنل 9 ستمبر تا15 ستمبر 2011ء جلد 18 شمارہ 36 صفحہ 5 تا9)