خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 31

خطبات مسرور جلد نهم 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ؟ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اُس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دُھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں“۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد 22۔صفحہ 119،118) ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا بی تصرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔یعنی وہی نبیوں کا سر دار، رسولوں کا فخر ، تمام مُر سلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبی صلی علیم ہے، جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس (سراج منیر۔روحانی خزائن۔جلد 12 - صفحہ 82) سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی“۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: "میر امذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی ا ہم کو الگ کیا جاتا اور گل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے ، سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی الی یکم نے کی، ہر گز نہ کر سکتے۔اُن میں وہ دل اور وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو ملی تھی۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتر ا کرے گا۔میں نبیوں کی عزت اور حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں۔لیکن نبی کریم کی فضلیت گل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔بد نصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے۔ہمارے نبی کریم علی علیکم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے“۔(ملفوظات۔جلد اول۔صفحہ 420۔مطبوعہ ربوہ) آپ فرماتے ہیں: ” نوع انسان کیلئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اُس کے غیر کو اُس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو گی۔بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے ؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد مصطفی صلی علی کم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اُس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کیلئے زندہ ہے۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن۔جلد 19۔صفحہ 13-14)