خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 340
340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم وہاں سے چلے گئے لیکن یہاں سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ناگوئی (Naguti) جگہ ہے، اُس میں ہماری ایک دوسری مسجد ہے مسجد بیت السلام “ جس کا اس سال افتتاح ہوا ہے وہاں پہنچے اور اس وقت وہاں کی جو قریبی جماعت تھی اس میں بڑے وسیع پیمانے پر یوم خلافت کا ایک جلسہ ہو رہا تھا اور لوگ اُس میں شامل ہونے کے لئے گئے ہوئے تھے۔چند ایک لوگ ہی وہاں بیٹھے تھے یہ (مولوی) اُن کے پاس گئے اور اُن کو ڈرایا دھمکایا لیکن اُنہوں نے نہ تو اُن کی باتیں سنیں اور نہ ہی اُن سے یہ کہا کہ ہاں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔لیکن بہر حال کیونکہ مقامی مولوی بھی ساتھ تھے اور کچھ بڑے لوگ بھی تھے اس کی وجہ سے وہ کچھ کر نہیں سکے اور ان مولویوں نے ہماری مسجد جس کا میں نے ذکر کیا کہ افتتاح ہوا ہے ، وہاں سے قرآنِ کریم اور لٹریچر اُٹھایا اور مسجد کے باہر جو بورڈ لگا ہوا تھا اُس کو بھی توڑ کے اپنے ساتھ لے گئے۔بہر حال جب ہماری جماعت کے لوگ واپس آئے تو پھر حکام سے رابطہ کیا۔گو ان لوگوں نے ہمارے خلاف وہاں کے جو حکام تھے اُن کو کافی ورغلایا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں اور فساد پیدا کرنے والے ہیں اور دہشت گرد ہیں اور ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے ہیں۔لیکن بہر حال افسران سے رابطے تھے بلکہ وہاں کے ایک بڑے افسر تھے اس علاقے کے ڈی پی او، ایڈ منسٹریٹو ہیڈ ہیں ، اُن کو جب مسجد کا افتتاح ہوا ہے تو بلایا ہو ا تھا اور وہ آئے ہوئے تھے۔بہر حال جب معاملہ اُن تک پہنچا تو انہوں نے کہا کہ اب تو یہ لوگ چلے گئے ہیں آئندہ یہ آئیں تو مجھے اطلاع کرنا اور میں ان کے خلاف مقدمہ درج کروں گا اور گرفتار کروں گا۔تو یہ لوگ تو ہر جگہ اپنی کوششیں کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسی ہو اچلائی ہے کہ جہاں بیعتیں کروارہا ہے وہاں دوسروں کے دلوں میں جو ابھی تک شامل نہیں ہوئے نرمی بھی پیدا کر رہا ہے۔پس یہ لوگ جن کو کہا جاتا ہے کہ افریقہ میں رہنے والے ہیں اور جو دنیاوی تعلیم سے اتنے آراستہ نہیں لیکن ان کے دل اللہ تعالیٰ نے نور یقین سے بھر دیئے ہیں، وہ اپنے ایمان میں مضبوط ہیں۔وہ ان نام نہاد علماء کے بھرے میں آنے والے نہیں۔ایمان سے پھیر نا تو شیطان کا کام ہے اور یہی اُس نے کہا تھا کہ اے اللہ ! تیرے خالص بندے ہی ہیں جو میرے قابو میں نہیں آئیں گے۔باقیوں کو تو میں ہر راستے سے ور غلانے کی کوشش کروں گا۔پس جو ان ورغلانے والوں کا کام ہے وہ یہ کرتے چلے جائیں لیکن جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ سے خالص تعلق پیدا ہو چکا ہے ، جن لوگوں کو راستی دکھائی دے چکی ہے ، اللہ تعالیٰ کے خالص بندے بن چکے ہیں وہ انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایمانوں پر قائم رہیں گے اور یہی اظہار ہر جگہ ہمیں نظر آرہا ہے۔اب میں کچھ اور واقعات پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بعض لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے بلکہ حیران کن طور پر رہنمائی فرماتا ہے۔قرغزستان سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں: آرتر (Artur) صاحب نے گزشتہ رمضان المبارک میں بیعت کی تھی۔وہ ایک دینی جماعت کے ممبر تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ میرے اساتذہ نے مجھے برائیوں سے بچنے کے لئے اور سیدھے راستے پر چلنے کے لئے ایک دعا سکھائی۔اس دعا کو سیکھے ہوئے ایک سال ہو چکا تھا لیکن میں نے وہ دعا نہیں کی تھی۔کہتے ہیں کہ تین چار روز قبل میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعامانگی کہ اپنے فضل سے مجھے سیدھی راہ دکھا۔