خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 337

خطبات مسرور جلد نهم 337 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محد 08 جولائی 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 08 جولائی 2011ء بمطابق 08وفا1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح (لندن) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ دنوں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں میں جلسہ جرمنی میں شمولیت کے لئے گیا ہوا تھا۔اس کے بارہ میں تو گزشتہ خطبہ میں، جو برلن میں دیا تھا، بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جلسے میں دیکھا، محسوس کیا اور اس کے علاوہ بھی جرمنی کی جماعت نے جو پروگرام بنائے ہوئے تھے اُن میں بھی وہ فضل نظر آئے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نئے نئے پہلو نظر آئے۔جماعت کے تعارف کے نئے راستے کھلے۔اب جر منی جماعت کو چاہئے کہ ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔جرمنی کے علاوہ سفر میں جاتے اور آتے وقت یورپ کے دو اور ممالک میں بھی مختصر قیام تھا۔جاتے ہوئے پیجیئم اور واپسی پر ہالینڈ میں۔گو یہاں مختصر قیام تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے یہاں بھی نظر آرہے ہیں۔بیلجیئم میں ایک رات قیام تھا، شام کو وہاں پہنچے تو شام کو ہی بعض نو مبائعین اور جماعت کے قریب آئے ہوئے دوستوں کے ساتھ ملاقات تھی۔ایک مجلس تھی جس میں ساٹھ ستر کے قریب احباب و خواتین شامل تھے۔انہیں بھی کچھ کہنے کا موقع ملا۔اس مجلس کے دوران ہی بعض جو قریب آئے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل کھولے اور اُنہیں شرح صدر عطا فرمایا اور اُن کو اللہ تعالیٰ نے بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔میں اس مجلس میں اُن کو بتا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آخرین میں مبعوث ہوئے تو اُس کام کو آگے بڑھانے کے لئے مبعوث ہوئے جو آپ کے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک بہت بڑا انقلاب پیدا فرمایا اس میں جاہلوں کو جو بعض دفعہ درندگی کی حد تک گر جاتے تھے حقیقی انسانی قدروں کی پہچان کروائی۔انہیں انسان اور پھر تعلیم یافتہ انسان بنا کے خدا تعالیٰ کے قریب کر دیا اور یوں وہ باخدا انسان بن گئے اور اپنے مقصد پیدائش کو نہ صرف پہچاننے لگ گئے بلکہ اس کے حصول کے لئے حقیقی کوششیں شروع کر دیں اور معیار حاصل کیا۔اُن کا اللہ تعالیٰ سے ایسا پختہ تعلق قائم ہوا کہ انہیں دنیا کی ہر چیز بیچ نظر آنے لگی۔اس دنیا کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہ رہی۔اُن کی دنیا بھی دین بن گئی اور یہی چیز