خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد نهم 314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء اور اللہ کے فضل سے آپ نبی ہیں لیکن غیر شرعی نبی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں آئے ہوئے اور آپ سے کامل محبت اور عشق کرنے والے نہیں۔لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ بعض لوگ جن کو دھکا دیا گیا تھا وہ لوگ جو واپس چلے گئے تھے ، وہ آبدیدہ ہو گئے اور بے اختیار اُن کی زبان سے نکلا کہ مولیٰ ہم یہاں کھانا کھانے تو نہیں آئے تھے بلکہ تیرے حکم کی تعمیل میں تیرے مسیح کے در پر آئے تھے۔(ماخوذ از روایات حضرت حکیم عبد الصمد صاحب رجسٹر روایات جلد 12 صفحہ 21 غیر مطبوعہ ) پس کارکنان کو ہمیشہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔پھر چوہدری عبد العزیز صاحب احمدی پنشنر نوشہرہ ککے زئیاں لکھتے ہیں کہ دسمبر 1907ء کے سالانہ جلسے پر جو آخری جلسہ حضرت صاحب کی حیات طیبہ کا تھا، میں حاضر ہوا تھا۔نو بجے حضرت صاحب گھر سے اُن سیڑھیوں کے ذریعے نیچے تشریف لائے جو مسجد مبارک سے چھتی ہوئی گلی میں دفتر محاسب کے کونے کے عین مقابل اترتی ہیں۔حضور دوسری سیڑھی پر کھڑے ہو گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خاص طور پر بلوا کر فرمایا کہ رات جو مہمان دیر سے آئے ہیں اُن کو کھانا نہیں ملا اور وہ بالکل بھو کے رہے ہیں۔اُن کی فریاد عرش معلی تک پہنچی ہے“۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور درست ہے۔واقعی اُن کو کھانا پہنچانے میں کو تاہی ہوئی ہے۔فرمایا ” ایک کمیٹی چار پانچ آدمیوں کی بنائی جائے جو رات بھر مہمانوں کی آمد ورفت کی نگہداشت اور اُن کے کھانے کا بندوبست کرے تا کہ آئندہ دوستوں کو تکلیف نہ ہو“۔(ماخوذ از روایات حضرت چوہدری عبد العزیز صاحب احمدٹی رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 217 غیر مطبوعہ) میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں خیر محمد صاحب سہرانی احمدی سکنہ بستی رنداں ڈیرہ غازی خان کہتے ہیں کہ 1902ءی 1903ء کا واقعہ ہے کہ میں قادیان شریف گیا۔موقع عید کا تھا اور لنگر خانے میں لنگر چلا تو عام و خاص کی تجویز ہونے لگی۔( لنگر چلا تو عام اور خاص کی تجویز ہونے لگی کہ یہ لوگ خاص مہمان ہیں یہ عام مہمان ہیں)۔کھانے کی تقسیم کے لئے ، تو میری نیت میں فرق آنے لگا۔فوراً مجھے یہ بدظنی پیدا ہوئی کہ جو مہدی معہود ہو گا وہ حکماً عدل ہو گا مگر اس لنگر خانے میں ریا ہونے لگا ہے ، مساوات نہیں ہے۔پھر صبح کو مسجد مبارک میں گیا تو حضرت مسیح موعود اذان سے پہلے تشریف لائے تو آتے ہی فرمایا: مولوی نور الدین صاحب کہاں ہیں ؟ حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور ! میں حاضر ہوں۔حضرت اقدس نے فرما یا رات اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیر النگر خانہ ناخن کی پشت برابر بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ لنگر خانے میں رات کو ریا کیا گیا ہے اور اب جو لنگر خانے میں کام کر رہے ہیں اُن کو علیحدہ کر کے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں۔( اتنی سختی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی کہ جنہوں نے مہمانوں کے درمیان امتیاز کیا تھا، اُن کو نہ صرف فارغ کر و کام سے بلکہ چھ ماہ کے لئے قادیان سے نکال دو) اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت ہوں اور صالح ہوں اور فرمایا کہ فجر کی روٹی ( یعنی صبح کا کھانا جو۔جو ہے ناشتہ ) میرے مکان کے نیچے چلایا جائے اور میں اور میاں محمود احمد اوپر سے دیکھیں گے۔