خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد نهم 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء فتح مکہ کے بعد آنحضور صلی ا ہم نے عکرمہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بن ابو جہل کے قتل کا حکم دیا تھا۔کیونکہ یہ جنگی مجرم تھا اس لئے قتل کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اور ان کا والد نبی صلی یکم اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں سب سے زیادہ شدت اختیار کرنے والے تھے۔جب عکرمہ کو یہ خبر ملی کہ نبی صلی ا یم نے اس کے قتل کا حکم دے دیا ہے تو وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی جو اس کی چچا زاد تھی اور حارث بن ہشام کی بیٹی تھی اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے پیچھے پیچھے گئی۔اس نے اسے ساحل سمندر پر کشتی پر سوار ہونے کا منتظر پایا۔انتظار میں کھڑا تھا کہ کشتی آئے تو میں یہاں سے سوار ہو کر جاؤں۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ عکرمہ کو اس کی بیوی نے کشتی میں سوار پایا اور اسے اس مکالمے کے بعد واپس لے آئی کہ اے میرے چا زاد! میں تیرے پاس سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ، سب سے زیادہ نیک سلوک کرنے والے اور لوگوں میں سے سب سے بہتر ( یعنی آنحضرت صلی علیم ) کے پاس سے آئی ہوں۔تم اپنے آپ کو برباد نہ کرو۔میں نے تمہارے لئے امان طلب کر لی ہے۔واپس آجاؤ۔آنحضرت صلی علیہ کی تمہیں معاف کر دیں گے۔کچھ نہیں کہا جائے گا۔عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس آئے اور کہا اے محمد ( صلی یکم ) میری بیوی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے۔آنحضور صلی الی یکم نے فرمایا: وہ درست کہتی ہے۔آپ کو امان دی گئی ہے۔اس بات کا سننا تھا کہ عکرمہ نے کہا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّكَ عَبْدَهُ وَرَسُولُهُ۔پھر عکرمہ نے شرم کے باعث اپنا سر جھکا لیا۔اس پر رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا: اے عکرمہ ! ہر وہ چیز جو میری قدرت میں ہے اگر تم اس میں سے کچھ مجھ سے مانگو تو میں تم کو عطا کر دوں گا۔عکرمہ نے کہا۔مجھے میری وہ تمام زیادتیاں معاف کر دیں جو میں آپ سے کرتا رہا ہوں۔اس پر نبی صلی الم نے یہ دعادی کہ اللهُمَّ اغْفِرْ لِعِكْرَمَةَ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيهَا ا و مَنْطَقٍ تَكَلَّم ہے۔کہ اے اللہ ! عکرمہ کو ہر وہ زیادتی جو وہ مجھ سے کرتا رہا ہے بخش دے۔یا آپ نے فرمایا کہ اے اللہ ! عکرمہ میرے بارہ میں جو بھی کہتا رہا ہے وہ اس کو بخش دے۔کیا اس جیسی معافی کی کوئی مثال ہے ؟ الله س (السيرة الحلبية لعلامہ ابوالفرج نورالدین ذکر فتح مكه شرفها الله تعالیٰ جلد3 صفحه 132 مطبوعه بيروت 2002ء) اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ - ایک شخص فضالہ بن عمیر فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی یکم طواف کر رہے تھے تو آپ کے قریب قتل کی نیت سے آیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے اس منصوبے کی خبر کر دی۔آپ نے اسے دیکھ لیا، بلایا تو وہ گھر اگیا۔پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ کس نیت سے آئے ہو۔ظاہر ہے جب پکڑا گیا تو اس نے جھوٹ بولنا تھا، بہانے بنانے لگا۔آپ مسکرائے اور پیار سے اسے اپنے پاس بلایا اور اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، بغیر کسی خوف کے کہ ہتھیار اس کے پاس ہے، کس نیت سے وہ آیا ہوا ہے۔فضالہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا تو میری تمام نفرت دور ہو گئی۔(السيرة النبوية لابن هشام ، تحطيم الاصنام صفحه 747 دار الكتب العلمية بيروت ایڈیشن 2001ء)