خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 23

23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی رسول اللہ صلی علی نیم کے پاس سے گزرا اور اس نے السّلامُ عَلَيْكَ کے بجائے السّامُ عَلَيْكَ یعنی تجھ پر ہلاکت وارد ہو ، کہا۔پھر رسول اللہ صلی للی نیلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔تمہیں پتہ چلا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔پھر آنحضور صلی علیم نے بتایا کہ اس نے السَّامُ عَلَيْك کہا تھا۔صحابہ رضوان الله عَلَيْهِمْ أَجْمَعِيْن نے یہودی کی یہ حرکت دیکھی تو آنحضرت صلی الیہ کمی سے دریافت کیا۔کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں ؟ آنحضور صلی الم نے فرمایا کہ نہیں۔اسے قتل نہیں کرنا۔(بخاری کتاب استتابة المرتدين۔۔۔باب اذا عرض الذمى وغيره بسب النبى حديث (6926) ایک سبق یہ بھی دے دیا کہ میری شفقت صرف اپنوں پر نہیں، غیروں پر بھی ہے۔جو مجھ پر ظلم کرنے والے ہیں ان پر بھی ہے۔سزا صرف ایسے جرموں کی دینا ضروری ہے جن پر حدود قائم ہوتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سزا مقرر کی ہوئی ہے، جن کا قرآنِ کریم میں واضح حکم دیا ہے یا اللہ تعالیٰ نے جن کے بارے میں آپ کو بتایا ہے۔پھر آپ اور آپ کے صحابہ کو ایک یہودیہ نے گوشت میں زہر ملا کر کھلانے کی کوشش کی اور اقبالِ جرم کرنے کے باوجود آپ نے اسے معاف فرما دیا۔صحابہ کو غصہ تھا، انہوں نے پوچھا بھی کہ اس کو قتل کر دیں، آپ نے فرمایا نہیں، بالکل نہیں۔(بخاری کتاب الهبة باب قبول الهدية من المشرکین۔حدیث 2617) یہ ایک لمبی روایت ہے۔وحشی کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ کو جنگ اُحد میں شہید کرنے کے بعد میں مکہ میں واپس آ گیا۔اس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اور یہیں اپنی زندگی کے دن گزار تا رہا، یہاں تک کہ مکہ میں ہر طرف اسلام پھیل گیا۔پھر میں طائف چلا گیا۔طائف والوں نے رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور مجھے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ تم سفیروں سے انتقام نہیں لیتے۔چنانچہ میں بھی طائف والوں کے سفیروں کے ساتھ ہو لیا۔یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔جب آنحضور صلی اللی کرم نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا۔کیا تم وحشی ہو ؟ میں نے کہا جی، میں وحشی ہوں۔آنحضور صلی الی یکم نے فرمایا۔تم نے ہی حمزہ کو قتل کیا تھا؟ وحشی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی۔جیسے آپ نے سنا ہے ایسا ہی معاملہ ہے۔یہ کہتے ہیں کہ آنحضور صلی ا ہم نے میری خطائیں معاف کرتے ہوئے مجھے کہا کہ کیا تمہارے لئے ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آیا کرو؟ وحشی کہتے ہیں کہ آنحضور صلی الم کے اس ارشاد کے بعد میں مدینہ سے چلا آیا۔(بخاری کتاب المغازى باب قتل حمزة بن عبد المطلب رضي الله عنه حديث نمبر 4072) آپ کے عفو کی انتہا کا اس بات سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جب آنحضرت صلی علیم نے وحشی سے حضرت حمزہ کی شہادت کے بارہ میں مزید سوال کئے کہ کس طرح شہید کیا تھا اور پھر کیا کیا تھا؟ تو صحابہ کہتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی علیکم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اپنے چا کی یاد تازہ ہونے پر یقینا یہ آنسو نکلے ہوں گے۔وہ چچا جس نے ابو جہل کے مقابلہ میں آپ کا ساتھ دیا تھا اور آپ کے حق میں کھڑے ہوئے تھے لیکن حضرت حمزہ کے قاتل سے قدرت رکھنے کے باوجود آپ نے شفقت اور عفو کا سلوک فرمایا اور وحشی کو معاف فرمایا۔(الكامل في التاريخ لابن اثير جلد 2 سنة ثمان ذكر فتح مكة صفحه 125 مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 2006ء)