خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد نهم 14 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء جائے۔کوئی چوں چرا نہیں تھی کہ یہ ہونا چاہئے ، وہ ہونا چاہئے۔یا کسی بھی قسم کی تجویز نہیں دی کہ میں اب کیا کہتا ہوں۔simple اعتراف تھا کہ ہمارے سے غلطی ہوئی ہے اور ہم معافی چاہتے ہیں۔تو یہ ان کے اندر روح تھی۔اس ایک سال میں بڑی عید وہاں کی تو خاص طور پر بڑا زور دے کے مجھے اپنے گھر بلایا اور پھر اپنے گھر کا ہر کمرہ دکھایا، اپنی لائبریری دکھائی اور سارا گھر تو خوش تھا ہی، ان کی جو خوشی تھی جو باقیوں سے ان کو ممتاز کر رہی تھی وہ دیکھنے والی تھی۔خدمت دین کی اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی توفیق عطا فرمائی ہے۔جرمن زبان میں اسلام کے بارے میں کافی کتب لکھی ہیں۔میڈیا کے ساتھ ان کا بڑا گہرا تعلق تھا۔سوال و جواب کی بہت ساری مختلف مجلسیں غیروں میں جا کے میڈیا پر کرتے تھے۔جماعت جرمنی کے پریس سیکرٹری کے طور پر بھی آپ کو لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔ایک صاحب علم شخصیت تھے اور ہر طرح سے کہنا چاہئے ، جو بھی انسان میں، ایک مومن میں خصوصیات ہونی چاہئیں وہ ان میں پائی جاتی تھیں۔ایم۔ٹی۔اسے جرمن سٹوڈیو کے فعال رکن تھے اور جرمن پروگراموں کی یہ جان سمجھے جاتے تھے۔جرمن زبان میں تبلیغی اور تربیتی لٹریچر کا ایک بڑا خزانہ انہوں نے جماعت جرمنی کے لئے چھوڑا ہے۔جرمنی کے اخبارات اور متعددٹی وی چینلز پر اسلام اور احمدیت کا موقف بھر پور انداز میں پیش کرنے کی توفیق ملی۔اور جرمن زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ان کو عبور تھا۔جرمن اور انگلش دونوں میں نظمیں بھی لکھا کرتے تھے۔جامعہ احمدیہ میں جرمن زبان آج کل پڑھارہے تھے اور بڑی محنت سے یہ فریضہ انجام دے رہے تھے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ نظمیں لکھتے تھے۔بڑے اچھے شاعر تھے۔ان کی شاعری کی کتب بھی شائع ہوئی ہیں۔تقاریر بھی جلسے پر کیا کرتے تھے۔قرآنِ کریم سے انہیں بے انتہا محبت تھی۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر بے انتہا اعتماد تھا۔کسی مشکل یا پریشانی میں ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ دعا کرو۔نمازوں کی پنجوقتہ ادائیگی کے علاوہ نوافل اور تہجد کی طرف بھی التزام تھا۔مالی قربانی کی طرف بھی توجہ رہتی تھی۔ان کی بیٹی نے مجھے لکھا کہ کئی دفعہ کوئی مسئلہ ہو تا تھا تو ان کا پہلا جواب یہ ہو تا تھا کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے خط لکھو اور خود دعاؤں میں جت جاؤ۔اس کا ایک ہی حل ہے۔ان کی تصنیفات جو جماعت سے باہر کی تصنیفات ہیں ان میں آنحضرت صلی الم کی تعلیمات کے جرمن زبان میں دو ایڈیشن ہیں۔اسلام کے بارے میں ننانوے سوالات اور ان کے جوابات، اس کا بھی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔پھر ہے اسلام میں عورت کا مقام، یہ تیسری کتاب ہے اس میں کچھ سوالات اور ان کے جواب ہیں۔اسی طرح اسلام میں ” جنت اور جہنم کا تصور “ ہے اور بھی بہت ساری کتابیں ہیں جو تقریباً بارہ کے قریب کتب ہیں جو انہوں نے مختلف مضامین پر لکھیں اور جو ان کی احمدیت سے باہر شائع ہوئی ہیں۔اور جماعتی طور پر جو ان کی کتب ہیں ان کی تعداد تقریباً چار ہے۔اس کے علاوہ میگزین وغیرہ تھے، جن میں قادیان دارالامان اور پھر عورت کے کردار کے بارے میں کتاب تھی کہ اسلام میں عورت کا کردار۔پھر اسلامی نظموں کے مجموعے ہیں۔باقاعدہ جماعتی میگزین میں ان کے مضامین ہوتے تھے۔مختلف موضوعات پر کتابچے اور بروشر جو ہیں ان کی تعداد تقریباً ایک سو ہیں ہے۔ٹی وی پروگرام اور ٹاک شوز میں شامل ہوتے رہے۔جرمنی کے ایک مشہور یہودی کا پروگرام تھا جس کا