خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد ہشتم 99 66 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010ء بمطابق 5 تبلیغ 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ (الانعام: 121) اور تم گناہ کے ظاہر اور اس کے باطن ( دونوں) کو ترک کر دو۔یقیناً وہ لوگ جو گناہ کماتے ہیں وہ ضرور اس کی جزا دئے جائیں گے جو (برے کام ) وہ کرتے تھے۔اس آیت میں اثہ کا لفظ دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔اثھ کے لغوی معنی ہیں گناہ یا جرم یا کسی بھی قسم کی غلطی یا حدود کو توڑنا یا ایسا عمل جو نافرمانی کرواتے ہوئے سزا کا مستحق بنائے۔یا ایسا عمل یا سوچ جو کسی کو نیکیاں بجالانے سے روکے رکھے۔یا کوئی بھی غیر قانونی حرکت۔ذنب ایک لفظ ہے جس کا معنی بھی گناہ کا ہے لیکن اہل لغت کے نزدیک ذنب اور اثہ میں یہ فرق ہے کہ بعض یہ کہتے ہیں کہ ذنب ارادہ بھی اور غیر ارادی طور پر دونوں طرح ہو سکتا ہے۔لیکن اثہ جو ہے وہ عموماً ارادہ ہوتا ہے۔بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشہ کے حوالے سے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک حکم یہ ہے کہ تم گناہ کی ظاہری صورت سے بھی بچو اور اس کے باطن سے بھی بچو۔ہر کام کرنے سے پہلے غور کرو۔بعض چیزیں اور بعض عمل ایسے ہوتے ہیں جو واضح طور پر نظر آرہے ہوتے ہیں کہ غلط ہیں اور یہ شیطانی کام ہیں۔لیکن دوسری قسم کے وہ عمل یا با تیں بھی ہیں جو بظاہر تو اچھے نظر آرہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ بد نتائج پر منتج ہوتے ہیں۔ان کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے۔شیطان کہتا ہے کہ یہ کام کر لو کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں لیکن کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کام سے یہ ایسا گند ہے جس میں پھنس گیا ہوں اس سے نکلنا مشکل ہے۔اور پھر ایسا چکر چلتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا گناہ سر زد ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر چلنے والے کا کام ہے کہ ظاہر برائیاں جو ہیں ان پر بھی نظر رکھے اور باطن اور حقیقی برائیاں جو ہیں جن کے بدنتائج نکل سکتے ہیں ان پر بھی نظر رکھے۔ہر کام