خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد ہشتم 43 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 نور نے تمام انسانیت کی روشنی کا ذریعہ بنتا ہے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ کس عظمت اور شان سے آپ کی والدہ کی یہ رویا پوری ہو رہی ہے۔آنحضرت صلی ایم کے خدو خال کے بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے ”حضرت حسن بن علی نے کہا: میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ سے نبی کریم صلی علیم کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی صلی علیم کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے بھی ان ( خدو خال ) کا کچھ ذکر کریں جس سے میں چمٹ جاؤں تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی للی کم بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔آپ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا جیسے چودھویں کا چاند۔“ (شمائل النبی صلی اله م باب ما جاء فی خلق رسول اللہ صلی ا یکم حدیث نمبر 7 اردو ترجمہ شائع کر دہ نور فاؤنڈیشن۔ربوہ) پھر آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارہ میں ایک روایت میں ہے۔”حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی علی کم کو چاندنی رات میں دیکھا۔آپ سرخ جوڑے میں ملبوس تھے (سرخ کپڑے پہنے ہوئے تھے)۔میں کبھی آپ کی طرف دیکھتا کبھی چاند کی طرف دیکھتا۔آپ میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے۔“ (شمائل النبی صلی له م باب ما جاء فی خلق رسول الله صلى العلم حدیث نمبر 9 اردو ترجمہ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن۔ربوہ) پھر ایک روایت میں آتا ہے۔”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الی روی سفید رنگ تھے گویا کہ آپ کو چاندی سے بنایا گیا ہے۔“ شمائل النبی صلی له م باب ما جاء فی خلق رسول الله صلى اللی علم حدیث نمبر 11 اردو ترجمہ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن۔ربوہ) اسی طرح ایک روایت میں آپ کے حسن اور پر نور چہرے کا یوں بیان ہوا ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی للی کم کے سامنے والے دانت ریخدار تھے ( یعنی دانتوں میں ہلکا ہلکا فاصلہ تھا جب آپ کلام فرماتے تو سامنے کے دانتوں کے درمیان سے ایک نور سا ظاہر ہو تا تھا۔الله (شمائل النبی صلی الم باب ما جاء فی خلق رسول اللہ صلی الی کی حدیث نمبر 14 اردو ترجمہ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن۔ربوہ) پھر اپنوں کو ہی نہیں بلکہ آپ کا نور ہر سعید فطرت کو نظر آتا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت الله سة عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ال تیم مدینہ میں تشریف لائے تو کہا گیا کہ رسول اللہ صلی الی یوم تشریف لے آئے۔میں بھی لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لئے آیا۔جب میں نے غور سے رسول اللہ صلی علی نام کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔(سنن ترمذی کتاب القیامة والرقائق والورع باب 107/42 حدیث 2485) جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ صلی میں کم کا نام چراغ رکھا، اور چراغ سے