خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد ہشتم 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب رکھ دیتا ہے۔اس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔مگر وہ ان ہی کو جذب کرتے ہیں اور ان ہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ تم کانام سِرَاجًا منيرا ہے مگر ابو جہل نے کہاں قبول کیا؟“ نور اور سراج منیر صلی اليوم ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 665 جدید ایڈیشن) آج میں اللہ تعالیٰ کے اس نور اور روشن چراغ جو نُورٌ عَلَى نُورِ ہے، کے مقام اور آپ کے ظاہری حسن کے بارہ میں کچھ احادیث پیش کروں گا۔جن سے آپ کے ظاہری حسن کے نور کا بھی پتہ چلتا ہے۔اسی طرح آپ کے مقام اور اپنی اُمت کو نور سے حصہ دینے کے لئے بعض دعائیں جو آپ نے سکھائی ہیں ان کا ذکر کروں گا۔خیال یہ تھا کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی اس حوالے سے واقعات بیان ہوں لیکن یہ واقعات کافی ہیں اس لئے آج تو بیان نہیں ہو سکیں گے۔آئندہ انشاء اللہ۔انسان کامل جن کا نام محمد مصطفی صلی ال اہم ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی ا م ا میں نے زمین و آسمان کو بھی تیری وجہ سے پیدا کیا ہے۔اپنے نور ہونے کے بارے میں آپ صلی یہ تم خود فرماتے ہیں۔ایک روایت مرقاة المفاتيح شرح مشکوة کتاب الایمان میں ہے کہ آنحضرت علی علی کرم نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میر انور ہے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان بالقدرا الفصل الثانی شرح حدیث نمبر 94 جلد اول صفحہ 270 حاشیہ مطبوعہ بیروت لبنان 2001ء) یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس انسان کامل کو دیا جانے والا نور وہ نور ہے جو نہ پہلوں میں کبھی کسی کو دیا گیا اور نہ بعد میں آنے والوں کو دیا جائے گا۔وہ صرف اور صرف انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللی علم میں ہو گا۔آنحضرت صلی علی کم اپنی والدہ کی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے اندر سے ایک نور نکلا ہے۔جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 64 مسند عقبہ بن عبد السلمی حدیث نمبر 17798 مطبوعہ بیروت 1998ء) پس دور دراز کے علاقوں تک اور بڑے بڑے محلات تک، بڑی بڑی حکومتوں تک آپ کے نور کے پھیلنے کی خوشخبری اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو بھی دی تھی۔جس والدہ نے اپنے بچے کی پیدائش بھی بیوگی کی حالت میں دیکھی اور خود بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تحت اپنے اس عظیم بچے کے بچپن کا پورا زمانہ بھی نہیں دیکھنا تھا، ان کو اللہ تعالیٰ نے تسلی کرادی کہ باپ کے سائے سے محروم یہ بچہ محرومیت میں زندگی گزارنے والا نہیں ہے۔بلکہ اس کے