خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد ہشتم 578 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 حیدرآباد، اوکاڑہ، حافظ آباد، بدین، میر پور آزاد کشمیر ہیں۔اور جو نمایاں کار کردگی والی جماعتیں ہیں وہ واہ کینٹ، کھوکھر غربی، حیات آباد، کنری ، سانگھڑ ، موسے والا ، لودھراں، میانوالی، بھکر اور گوجر خان۔UK کی جو پہلی بڑی دس جماعتیں ہیں جنہوں نے قربانی دی ہے اس میں حلقہ مسجد فضل پہلے نمبر پر ہے، پھر نیو مالڈن ہے ، ووسٹر پارک ہے ، سر بٹن ہے ، ویسٹ بل ہے ، مسجد ویسٹ یہ نئی جماعت بنی ہے جو انر پارک او مسجد فضل کو تقسیم کر کے بنائی گئی ہے۔چیم اور مانچسٹر ساؤتھ ، رینز پارک اور یھم۔اور چھوٹی جماعتوں میں سکنتھورپ، کیمبرج، بورن متھ ، وولور ہیمپٹن، بر املے، لیوشم، لیمنگٹن سپا، ہارٹلے پول، برسٹل اور نارتھ ویلز شامل ہیں۔اس کے علاوہ مجموعی وصولی کے لحاظ سے چار ریجنز۔لنڈن، نارتھ ایسٹ ، مڈلینڈ اور ساؤتھ ریجن ہیں۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی پہلی پانچ جماعتیں، سیلیکون ویلی، ان لینڈ ایمپائر ، شکاگو، ڈیٹرائٹ اور لاس اینجلس ایسٹ ہیں۔جرمنی میں جو غیر معمولی قربانی کرنے والی لوکل امارات ہیں، ان میں ہمبرگ، گر اس گراؤ، مائینز ویز بادن (Mains Wiesbaden)، ڈامسٹڈ اور دائیبرگ (Dieburg)۔جو چھوٹی جماعتیں ہیں وہ نیوس (Neuss)، آئس برگ (Augusburg)، مار برگ (Marburg) اور مہدی آباد ہیں۔کینیڈا کی قابل ذکر جماعتیں پیس ولیج ایسٹ، ایڈمنٹن، پیس ولیج سینٹر، پیس ولیج ویسٹ، کیلگری نارتھ ویسٹ + پیس ولیج ساؤتھ یہ اکٹھے ہیں۔انڈیا کے جو پہلی دس پوزیشن والے صوبے ہیں وہ کیرالہ ہے۔نمبر 2۔آند را پر دیش، نمبر 3۔جموں و کشمیر ، نمبر 4۔تامل ناڈو 5۔کرناٹک ،6۔بنگال،7۔اڑیسہ ، 8۔پنجاب، 9۔یوپی، 10۔لکش دویپ۔اور جو پہلی دس جماعتیں ہیں وہ حیدرآباد ( آندرا پر دیش)، کالی کٹ ( کیرالہ)، قادیان ( پنجاب)، کلکتہ ، کنانور ٹاؤن ، چنائی، کیرولائی، کو ئمبٹور ، بنگلور اور آسنور ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام چندہ دینے والوں کے اموال اور نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے جو تکمیل اشاعتِ ہدایت میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کو اپنی قربانیوں میں بڑھاتا چلا جائے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے۔بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔