خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 541
خطبات مسرور جلد ہشتم 541 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں میں اپنی پہچان کروائی اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک جاری مبلغین مختلف ممالک میں اس کام میں مصروف ہیں۔ان مبلغین اور مربیان اور معلمین میں پاکستان، ہندوستان کے علاوہ اب مختلف قوموں کے افراد شامل ہو چکے ہیں۔خاص طور پر افریقن ممالک کے ، اسی طرح انڈونیشیا کے مبلغین اور معلمین کافی تعداد میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ وفا کے ساتھ ان سب کو خدمات بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔واقفین زندگی کے نظام میں ایک دوسرا گروہ بھی ہے۔صرف مبلغین نہیں، ڈاکٹر زاور ٹیچرز اور دوسرے لوگ ہیں ، وہ بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔بہر حال جوں جوں جماعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں، تبلیغی میدان میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور خدمات کے دوسرے میدانوں میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے جہاں واقفین زندگی اور مبلغین کی ضرورت ہوتی ہے۔جس جس طرح یہ وسعت پیدا ہو رہی ہے، کام بڑھ رہے ہیں، احمدیت کا پیغام پھیل رہا ہے۔دنیا احمدیت کی آغوش میں بھی آرہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ واقفین زندگی اور دینی علم رکھنے والوں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے جو تبلیغ اور تربیت کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جماعت کے ہر فرد کا ہمہ وقت تبلیغی اور تربیتی کاموں میں مصروف رہنا ممکن نہیں۔اس لئے ایک گروہ ہو جو خاص طور پر یہ کام سر انجام دے۔باوجو د اس کے کہ ایک دوسری جگہ امت کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ نیکیوں کے پھیلانے، برائیوں سے روکنے اور دعوت الی اللہ کا فرض ادا کرے۔لیکن پھر بھی یہ فرمایا ہے کہ کیونکہ یہ جو نظام دنیا ہے اس کو چلانا بھی ضروری ہے، اس لئے جو اس میں مصروف ہوں گے وہ بھی ہمہ وقت، وقت نہیں دے سکتے۔پھر ہر ایک کا مزاج بھی ایسا نہیں ہو تا کہ وہ تبلیغی اور تربیتی کام احسن رنگ میں سر انجام دے سکے۔پھر تمام کے تمام امت کے افراد دین کا وہ فہم اور ادراک بھی حاصل نہیں کر سکتے جو ایک مبلغ اور مربی کے لئے ضروری ہے۔اور پھر یہ بھی کہ تمام لوگوں کو خاص توجہ کے ساتھ ٹریننگ بھی نہیں دی جاسکتی۔اس لئے ایک گروہ ہونا چاہئے جو پوری توجہ سے دین سیکھے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات، اوامر و نواہی سے واقفیت حاصل کرے۔ان کی گہری حکمت سیکھے اور پھر پھیلائے۔ماشاء اللہ جماعت میں ایسے بھی بہت سے افراد ہیں جو اپنے ذوق اور شوق کی وجہ سے دنیاوی تعلیم کے علاوہ بھی دینی علم کا کافی درک رکھتے ہیں۔لیکن بعض دفعہ ، بلکہ اکثر دفعہ ان کی دوسری مصروفیات ایسی ہو جاتی ہیں جو مستقل طور پر وقت دینے میں آڑے آتی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے کام کے لئے واقف زندگی کا ایک گروہ ہونا چاہئے اور پھر کیونکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اس لئے ہر فرقے میں سے یعنی ہر گروہ میں سے ، ہر طبقے میں سے ، لوگوں کے ہر حصے