خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد ہشتم 441 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 کرتے تھے۔پہلے مشن ہاؤس کی تکمیل کے ہر مرحلے پر اخراجات کا خود جائزہ لیتے رہے۔بہت ساحصہ و قارِ عمل کے ذریعہ مکمل کروایا۔ایک دفعہ انہیں پتہ چلا کہ ان کی تنخواہ مبلغ سے کچھ زیادہ ہے تو پو چھے اور بتائے بغیر ہی اپنی تنخواہ کو کم کر لیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میری تنخواہ ایک مبلغ سے زیادہ ہو۔ان کے پاس کار نہیں ہوتی تھی، بائیسکل پر ہی سارے کام کیا کرتے تھے۔کو سو دو میں جماعت کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنے اور نو مبائعین کی تربیت کی ہر لمحے فکر رہتی تھی۔اور ایک فیملی کی طرح انہوں نے نو مبائعین کو سنبھالا ہے اور ان کی تربیت کی ہے۔ان کی تربیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کو سودو جماعت کی اکثریت موصی ہے اور انتہائی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ہے۔بڑے خوش مزاج، نیک ، نمازوں میں باقاعدہ اور بڑے خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرنے والے ، خلافت سے بڑا وفا کا تعلق رکھنے والے تھے۔ان کی آنکھوں سے بڑا عشق ٹپکتا تھا۔ہر دفعہ جرمنی کے جلسے میں مجھے ملا کرتے تھے۔انہوں نے پچھلے سال ایک دفعہ مجھے کہا کہ ہمارے بارہ میں کو سودو کے جو مسلمان علماء ہیں، انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ احمدی جو ہیں یہ حج نہیں کرتے بلکہ یہ جلسے پر جاتے ہیں۔تو اس وجہ سے بعض لوگ ہماری باتیں نہیں سنتے۔تو ان کو میں نے کہا تھا کہ اس سال آپ حج کریں۔اللہ کے فضل سے پچھلے سال انہوں نے حج بھی کیا تھا اور اس کے بعد اب ملے تو میں نے پوچھا کہ یہ شکوہ تو اب دور ہو گیا ہو گا۔تو بڑے خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حج کی توفیق دی اور حاجی کہلاتے تھے۔بہر حال عمر اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن کسی اچانک بیماری کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔اور ان کے پسماندگان کو بھی صبر دے۔اور احمدیت پر قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے بہتر اور ان جیسے کام کرنے والے کو سو وہ جماعت میں مزید افراد عطا فرمائے بلکہ ہر ملک میں جماعت کو ایسے افراد عطا فرمائے جو اخلاص اور وفا میں بڑھے ہوئے اور بے نفس ہو کر جماعت کی خدمت کرنے والے ہوں۔( نماز جمعہ کے بعد حضور ایدہ اللہ نے ہر دو شہداء کی نماز جنازہ غائب پڑھائی) الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 37 مورخہ 10 ستمبر تا 16 ستمبر 2010 صفحه 5 تا9)