خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 301

خطبات مسرور جلد ہشتم 301 خطبه جمعه فرموده مور محمد 18 جون 2010 کی اہلیہ کہتی ہیں کہ بہت سادہ دل، نیک اور ہر حال میں صبر و شکر کرنے والے اور متوکل انسان تھے۔دعاؤں کی طرف خصوصی توجہ تھی۔جماعتی کام خوشی سے سر انجام دیتے تھے۔آپ کے بچے کہتے ہیں ، آپ ایک نہایت شفیق باپ اور ایک ہمدرد انسان تھے۔نمازوں اور تہجد کے پابند تھے۔کبھی ہم نے انہیں نماز قضاء پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔اپنی اولاد کو بھی نماز کی طرف توجہ دلاتے رہتے۔بڑے ہنس مکھ ، ملنسار انسان تھے۔پانچ سال سے حلقہ جو ہر ٹاؤن کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔کبھی بھی کوئی کار کن یا کوئی جماعتی کام کے لئے خادم یا انصار میں سے کسی بھی وقت آجاتا، دو پہر کو یارات کو تو کبھی برا نہیں مناتے تھے۔اور اپنے بچوں سے بھی کہتے تھے کہ اگر کوئی جماعتی کام سے گھر آئے تو بیشک میں سو بھی رہا ہوں تو مجھے اٹھا دیا کرو۔اور انہوں نے اسی پر ہمیشہ عمل کیا۔اکثر نصیحت کرتے کہ جماعت اور خلافت سے وفا کرنا۔مکرم طاہر محمود احمد صاحب (پرنس) مکرم طاہر محمود احمد صاحب (پرنس) شہید ابن مکرم سعید احمد صاحب مرحوم۔یہ کوٹ اڈو ضلع مظفر گڑھ کے رہنے والے تھے۔1953ء میں آپ کے والد صاحب خاندان میں پہلے احمدی ہوئے۔1993ء میں لاہور منتقل ہو گئے۔شہید مرحوم نے کوٹ اڈو سے میٹرک کیا۔پھر ایک پرائیویٹ ملازمت اختیار کر لی۔پھر ملائیشیا چلے گئے۔تھوڑے سے ذہنی طور پر پسماندہ بھی تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 53 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ پر آنے سے قبل حلقے کے صدر صاحب کے گھر گئے تو صدر صاحب نے ویسے ہی مذاقا کہہ دیا کہ چلو میں تمہیں جمعہ پڑھا کر لاتا ہوں اس طرح صدر صاحب کے ساتھ پہلی دفعہ مسجد بیت النور گئے تھے۔اور وہیں ان کی شہادت ہوئی ورنہ اکثر ٹھو کر نیاز بیگ سنٹر یا کبھی کبھی دارالذکر جا کر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔رات شام سات بجے ان کی شہادت کا علم ہوا۔چھاتی میں دو گولیاں اور ماتھے پر ایک گولی لگی ہوئی تھی۔بڑے دبنگ احمدی تھے۔زندگی میں بھی کہتے تھے کہ میں گولیوں سے نہیں ڈرتا، میں نے شہید ہی ہونا ہے۔سارے علاقے میں واقفیت تھی۔مخلص اور جذباتی احمدی تھے اور ہر راہ چلتے کو السلام علیکم کہا کرتے تھے۔مکرم سید ارشاد علی صاحب سید ارشاد علی صاحب شہید ابن مکرم سید سمیع اللہ صاحب۔شہید مرحوم کوچه میر حسام الدین (سیالکوٹ) کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا حضرت سید خصیات علی شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نانا حضرت سید میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی صحابی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقائے خاص میں شامل تھے۔سیالکوٹ میں قیام کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے گھر قیام کیا۔ان کے والد صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے ہیڈ ماسٹر بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے اپنا گھر جماعت کو وقف کر دیا تھا۔شہید مرحوم بی اے