خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 201

201 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم تاریخیں مقرر کی ہیں جلسہ آگے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ دورے کا پروگرام پہلے سے کسی معین اور منظور شدہ پروگرام کے بغیر بنا تھا۔یہاں تک کہ جیسا کہ میں نے کہا سپین کی جماعت جن کا جلسہ ہو رہا تھا، انہیں بھی پوری طرح یقین نہیں تھا کہ میں جلسہ میں شامل ہوں گا۔اس سفر میں پہلا قیام فرانس کا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مراکش، الجزائر وغیرہ کے لوگوں میں جوان یورپین ممالک میں رہ رہے ہیں ، جماعت کی طرف بڑی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔اور بڑی بیعتیں ہو رہی ہیں۔اسی طرح بعض جزیرے جو فرانس کے زیر اثر ہیں جن میں افریقن آبادی ہے۔اسی طرح افریقہ کے فرانسیسی بولنے والے علاقے ہیں ان کے جو افراد فرانس میں آئے ہوئے ہیں ان میں سے بھی بیعتیں ہو رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی تعداد میں ہو رہی ہیں۔یہ لوگ بڑے فعال اور فوری طور پر نظام جماعت میں سموئے جانے والے بن رہے ہیں۔نیشنل مجلس عاملہ میں بھی ان نو مبائعین میں سے ایک اچھی تعداد شامل ہے۔فرانس میں ایک فرنچ اور ایک بیلجیئم اور مراکش کے چند باشندوں نے بیعت بھی کی تھی اور بیعت کے دوران بھی عجیب جذباتی کیفیت ان پر طاری تھی۔بہت سے نو مبائعین کی پہلی ملاقات تھی۔ان کے بھی عجیب جذبات تھے۔کئی ایک ایسے تھے ، جب میں ان سے پوچھتا کہ کوئی بات یا سوال؟ تو یہی کہتے تھے کہ دعا کریں کہ ہمارے ایمان میں ترقی ہو۔ہمارے تقویٰ میں ترقی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو آگے بڑھانے اور تقویٰ میں ترقی کرنے کی ایک لگن ان لوگوں میں ہے۔خلافت سے وفا کے تعلق کا اظہار بھی وہ کرتے تھے اور ان کی آنکھوں اور حرکات سے بھی وہ نظر آتا تھا اور جو ان کے جذبات تھے اس کا بیان کرنا بہت مشکل ہے۔رپورٹیں شائع ہوں گی ان میں آپ پڑھ لیں گے یا ہو سکتا ہے پڑھ بھی لی ہوں۔لیکن ان نو مبائعین کی حالت کو میرے خیال میں بیان کرنا مشکل ہے۔اور صرف فرانس میں ہی نہیں ، جن ملکوں کا میں نے دورہ کیا ہے ، وہاں ہر بیعت کرنے والا چاہے وہ عربی بولنے والے ممالک سے تعلق رکھتا ہے یا وہاں کا مقامی ہے اس میں ایسا اخلاص ہے جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔عربی بولنے والوں میں سے تو ہر ملک کے احمدیوں نے مجھے بتایا کہ ایم۔ٹی۔اے تھری العربیہ جو ہے، اس کے ذریعے سے ہمیں احمدیت کا پیغام پہنچا۔پھر یہ کہ ہم نے یہ پیغام سن کر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی۔بعض ایسے بھی تھے جن کو خدا تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے خود رہنمائی فرمائی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا کسی خلیفہ کو خودخواب میں دیکھا۔ایم ٹی اے العربیہ کا میں نے کہا ہے۔وہ لوگ جب بھی اس کا ذکر کرتے تھے تو ایم ٹی اے تھری العربیہ کی ٹیم کے افراد کو نام بنام دعائیں دیتے تھے۔خاص طور پر وہ افراد جو سوال وجواب کی الحوار المباشر کی مجلس میں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام دوستوں کو جزا دے اور ان کے ایمان وایقان اور اخلاص میں اضافہ کرے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے میں دن رات مصروف ہیں۔اسی طرح ایم ٹی اے کے دوسرے