خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 172
172 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 بتائے ہیں جن پر چل کر میں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بن گیا ہوں یا اس طرف چل کے میں بہت لحاظ سے، ایک حد تک اپنے دل میں سکون اور چین پاتا ہوں اور اس طرف میرے ترقی کے قدم بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی طرف میں اس تعلیم کی وجہ سے متوجہ ہوا ہوں۔آؤ تم بھی میری باتیں سنو۔جس طرح میں فرمانبردار بننے کی کوشش کر رہا ہوں، تم بھی اس دین کی طرف آؤ اور اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔مسلموں پس ایک داعی الی اللہ کے لئے یہ ضروری ہے اور صرف یہ داعی الی اللہ کو یاد رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی چاہے وہ فعال ہو کر تبلیغ کرتا ہے یا نہیں اگر دنیا کے علم میں ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے ، اگر ماحول اور معاشرہ جانتا ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے تو وہ احمدی یادر کھے کہ اس کے ساتھ احمدی کا لفظ لگتا ہے، اگر وہ تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو تب بھی اس کا احمدی ہونا اسے خاموش داعی الی اللہ بنا دیتا ہے۔بعض دفعہ غیر احمدیوں اور غیر کے مجھے خط آجاتے ہیں کہ آپ کی جماعت کی نیکی کی تو بڑی شہرت سنی ہے اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سب مسلمانوں سے اچھے ہیں، لیکن فلاں احمدی نے مجھے اس طرح دھو کہ دیا ہے، میرا حق اس سے دلوایا جائے۔تو ایک احمدی کا ایک عمل ، ایک فعل ، پوری جماعت کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جو انسانی فطرت کی پاتال تک سے واقف ہے جس طرح وہ اپنی مخلوق کو جانتا ہے کوئی اور نہیں جان سکتا ہے ، اسی نے پیدا کیا ہے۔اس نے یہ فرمایا کہ دعوت الی اللہ کرنے والے سے کون بہتر ہو سکتا ہے ؟ تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دعوت الی اللہ کرنے والے کی کوشش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ اعمالِ صالحہ بجالائے اور یہ اعلان کرے کہ میں کامل فرمانبردار بنتا ہوں یا بننے کی کوشش کروں گا۔مجھے پر مسلمان ہونے کا احمدی ہونے کا صرف Label نہیں لگا ہوا۔بلکہ میں خدا تعالیٰ کے احکامات کو کامل فرمانبرداری سے ادا کرنے کی کوشش کرنے والا ہوں اور ایک مسلمان فرمانبردار تبھی بنتا ہے جب حقوق اللہ کی طرف بھی توجہ رہے اور حقوق العباد کی طرف بھی توجہ رہے۔یادر کھنا چاہئے کہ مسلمان کے فرمانبر دار ہونے کا عبادت کے ساتھ بہت تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ مسلمان وہی ہے جو دعا اور صدقات کا قائل ہو۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 195) حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جب خانہ کعبہ کی دیواریں کھڑی کرتے ہوئے دعا کی اور ایک عظیم نبی کے برپا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی کہ وہ نبی جو آیات پڑھ کر سنائے، کتاب اور حکمت سکھائے اور نفسوں کو پاک کرے تو اس دعا سے پہلے اپنے لئے اور اپنی ذریت کے لئے بھی یہ دعا مانگی کہ ربنا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَكَ وَارِنَا مَنَاسِكَنَا ( البقرۃ:129) کہ اے ہمارے ربّ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک فرمانبردار جماعت بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریق بتا۔ص