خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 169

خطبات مسرور جلد ہشتم 169 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 پادریوں نے یہاں تک تسلیم کیا کہ جو اسلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیش کر رہے ہیں۔اور جس طرح کی تعلیم آپ پیش کر رہے ہیں اس نئے اسلام کی وجہ سے (جو ان کی نظر میں نیا تھا لیکن حقیقی اسلام تھا) محمد صلی ال نیم کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہو رہی ہے۔( The Offical Report of the Missionary Conference of the Anglican Comunion, 1894۔Page64) (بحوالہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسلم ہندوستان اور انگریز از جمیل احمد بٹ صفحہ 224 طبع اول 2003ء) جیسا کہ میں نے کہا یہ کوئی نیا اسلام نہیں تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق احیائے موتی کے نظارے تھے جو آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر دکھائے۔اور اسلام کی برتری عیسائیت اور تمام ادیان پر ثابت فرمائی۔پس جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں کہہ چکا ہوں، احیائے موتی کا یہ کام آج ہر احمدی کا بھی ہے۔اپنی حالتوں کو بدلنے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور اپنی عملی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سپین کی جماعت کے ہر فرد کو بھی اب اس طرف توجہ دینی چاہئے اور ستیاں دُور کرنی چاہئیں۔ان دلائل سے اور علمی اور روحانی خزانے سے کام لیتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیئے ہیں، اپنی تبلیغی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن یہ بھی واضح ہو کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی اکثریت عموما مذ ہب سے دور ہے۔اس لئے پہلے تو ان کو مذہب کی ضرورت اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین کی طرف لانا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے عملی نمونے اور علمی اور روحانی ترقی کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے۔تقویٰ میں ترقی ضروری ہے۔کیونکہ جب تک ہماری روحانی ترقی نہیں ہوتی ہماری تبلیغ میں بھی برکت نہیں پڑ سکتی۔یہ تو خدا تعالیٰ کی تقدیروں میں سے تقدیر ہے کہ اسلام کا غلبہ تمام ادیان پر ہونا ہے۔انشاء اللہ۔یہ تو خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ حقیقی اور زندہ دین صرف اور صرف اسلام ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی یہ کام کی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار اور اس کے لئے اس کے مطابق اپنے عملوں کو ڈھالنا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔پس یہی مقصد ہے جس کے لئے کوشش کی اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔یہی ایک چیز ہے جس کو ہم نے اپنے او پر بھی لاگو کرنا ہے اور دنیا کو بھی نجات دلانے کے لئے یہ پیغام پہنچانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے“۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 307-306)