خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد ہشتم 48 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 کئے ہیں۔سب سے پہلے بھی تو ہے اور سب سے آخر بھی تو ہے۔تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔( بخاری۔کتاب التہجد - باب التهجد بالليل۔۔۔حدیث نمبر 1120) پس نفس کی پاکیزگی اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے شیطان سے ایک جنگ کرنی پڑتی ہے۔آنحضرت صلی علیہ علم کا شیطان تو آپ نے فرمایا کہ مسلمان ہو گیا ہے۔(سنن الترمذی کتاب الرضاع باب 17/17 حدیث:1172) جب آپ یہ دعائیں کرتے ہیں اور اس درد سے کرتے ہیں تو ایک عام مومن کو کس قدر درد کے ساتھ دعائیں کرنے کی ضرورت ہے اور یہ دعائیں اور شیطان سے یہ جنگ، دعائیں کرنے کی یہ توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد سے ملتی ہے۔اور شیطان سے جو جنگ انسان نے کرنی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا حصول اس وقت ممکن ہے جب اس کے حضور جھکنے والا بنا جائے۔جب اس کا حق ادا کیا جائے۔اس کے نور کی تلاش کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہر مومن کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔پھر ایک روایت میں ایک دعا اس طرح بیان ہوئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: اگر کسی کو کوئی تکلیف اور کوئی غم پہنچا ہو تو وہ یہ کلمات کہے کہ اے اللہ ! میں تیر ابندہ ہوں اور تیرے بندے کا اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ایک عام غلام کا ایک عورت کا بیٹا ہوں۔یعنی ایک عام آدمی کا اور ایک عورت کا بیٹا ہوں۔میری پیشانی کے بال تیرے ہاتھ میں ہیں۔(تو ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔تیرا حکم میرے بارہ میں چل رہا ہے اور میرے بارہ میں تیری قضاء و قدر انصاف پر مبنی ہے۔( ظلم تو تو بہر حال مجھ پر نہیں کرے گا۔جو بھی تو کرے گا وہ میرے گناہوں کی سزا ہے ، میرے اپنے اعمال کی سزا ہے۔جزا ہے تو وہ بھی تیری باتیں ماننے کی وجہ سے اور تیرے فضل کی وجہ سے ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کبھی ظلم نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ میں ظلم نہیں کرتا۔رحمت اللہ تعالیٰ کی وسیع ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی بندے پر ظلم کبھی نہیں کرتا۔میرے بارہ میں تیری قضاء و قدر انصاف پر مبنی ہے)۔میں تجھے تیرے ان تمام صفاتی ناموں کے ساتھ جن سے تو نے اپنے آپ کو یاد کیا ہے یا جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے مانگتا ہوں یا جو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اس کے ساتھ مانگتا ہوں۔یا جسے تو نے اپنے علم غیب میں ترجیح دی ہوئی ہے اس کے ذریعہ سے سوال کرتا ہوں۔(اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا تو انسان کو علم نہیں۔اس لئے اپنے علم غیب کے لحاظ سے جنہیں ترجیح دی ہے ان کے واسطہ سے بھی مانگتا ہوں) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنادے اور میرے سینے کا نور بنادے اور میرے غم و حزن کو بھگانے اور دور کرنے کا باعث بنادے۔جب وہ یہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے غم اور حزن کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ فرحت اور سرور رکھ دے گا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا۔یا رسول اللہ صلی یک کم کیا ہم اس کو یاد نہ کر لیں۔آپ نے فرمایا کیوں نہیں جو بھی اسے سنے چاہئے کہ وہ اس کو یاد کر لے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 47 مسند عبد اللہ بن مسعود حدیث 3712 مطبوعہ بیروت 1998ء)