خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 597 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 597

597 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم نے مجھے نکال دیا ہے۔اس لئے اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ اللہ کی زمین میں کہیں نکل جاؤں اور آزاد ہو کر اپنے رب کی عبادت کروں۔ابن الدغنہ نے کہا کہ تمہارے جیسے شخص کو نہ تو خود مکہ سے نکلنا چاہئے اور نہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ نکالیں۔تم بھولی ہوئی نیکیوں پر عمل کرنے والے ہو اور رحمی رشتے داروں سے حسن سلوک کرتے ہو اور بے بسوں کے بوجھ اٹھاتے ہو اور مہمان نوازی کرتے ہو اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرتے ہو۔پس میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔واپس لوٹ جاؤ اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو۔حضرت ابو بکر واپس آگئے۔ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ ہی ہو لیا۔رات کے وقت قریش کے رؤوساء کے پاس جاکر ابن الدغنہ نے کہا۔ابو بکر جیسے لوگ نہ تو خود نکلتے ہیں اور نہ ہی انہیں نکالا جاتا ہے۔کیا تم ایسی اعلیٰ اور نیک صفات والے شخص کو نکالتے ہو ؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ کا انکار نہ کیا۔انہوں نے اسے کہا کہ ابو بکر کو کہہ دو کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کر لیا کرے اور وہاں نماز ادا کر لیا کرے اور جو چاہے پڑھ لیا کرے لیکن اس کے ذریعہ سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائے اور نہ اس کا اظہار اونچی آواز سے کرے۔کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور بچوں کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ابن الدغنہ نے یہ سب باتیں حضرت ابو بکر کو بتائیں تو آپ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے۔اور نماز کے وقت آواز اونچی نہ رکھتے اور اپنے گھر کے سوا کہیں اور قرآن نہ پڑھتے۔پھر آپ کے ذہن میں ایک خیال آیا اور آپ نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد تعمیر کی جہاں آپ نماز ادا کرتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔اس وقت مشرکین کی عور تیں اور ان کے بچے جھانکتے اور حضرت ابو بکر کو دیکھتے تو بہت زیادہ متاثر ہوتے۔حضرت ابو بکر بہت زیادہ رونے والے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت اپنی آنکھوں پر قابو نہ رکھتے تھے۔ان کے آنسو بہنے شروع ہو جاتے تھے۔قریش کے رؤوساء اس بات سے بہت زیادہ گھبر اگئے۔تو انہوں نے اپنا ایک پیغامبر ابن الدغنہ کی طرف بھیجا۔جب وہ آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اس شرط پر ابو بکر کو تمہاری پناہ میں رہنے دیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرے گا۔لیکن اس نے اس سے تجاوز کیا ہے اور اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد تعمیر کرلی ہے اور بلند آواز سے وہاں نماز ادا کرتے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔اور ہمیں اس بات کا خوف ہوا کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور بچوں کو آزمائش میں نہ ڈال دے۔پس تو ان سے پوچھ کہ وہ کیا تمہاری پناہ سے انکار کرتا ہے۔کیونکہ ہم نے تو اس بات کو نا پسند کیا کہ ہم تجھ سے بد عہدی کریں اور نہ ہی ہم ابو بکر کو علی الاعلان عبادت کی اجازت دے سکتے ہیں۔(حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ) ابن الدغنہ حضرت ابو بکر کے پاس آیا (اور کہا) جس بات کا میں نے آپ سے معاہدہ کیا تھا یا اس پر قائم رہو یا میری ذمہ داری مجھے سونپ دو۔کیونکہ یہ مجھے گوارا نہیں کہ عرب کے لوگ یہ بات سنیں کہ میرے ساتھ اس شخص کی وجہ سے بد عہدی کی گئی ہے جس کے ساتھ میں نے معاہدہ کیا ہوا تھا۔حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ میں تمہاری امان تمہیں واپس کرتا ہوں اور اللہ بزرگ و بر ترکی امان کو پسند کر تا ہوں۔(تلخیص از بخاری۔کتاب مناقب الانصار - باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة۔۔۔الخ حديث: 3905)