خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 594

خطبات مسرور جلد ہشتم 594 سوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے کسی کو مارا ہو۔آپ کو جب کبھی کسی نے تکلیف پہنچائی تو بھی آپ نے کبھی اس سے انتقام نہیں لیا۔ہاں جب اللہ تعالیٰ کے کسی قابل احترام مقام کی ہتک اور بے حرمتی کی جاتی تو پھر آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔( صحیح مسلم۔کتاب الفضائل۔باب مباعد نہ صلى الظلم لأنام واختياره۔۔۔حديث:5944) پس یہ وہ عظیم اسوہ ہے جو صبر کے مضمون کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ابو کبشہ انماری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صل اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین باتوں کے متعلق تاکیدا کہتا ہوں اور میں تمہیں ایک بات بتا تا ہوں۔پس تم اسے خوب یاد رکھو۔آپ نے فرمایا: کسی بندے کا مال صدقے سے کم نہیں ہوتا اور وہ بندہ جس پر کوئی ظلم کیا گیا ہو اور اس نے اس پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔اور وہ بندہ جس نے کسی سوال کا دروازہ کھولا تو اللہ تعالی اس پر فقر کا دروازہ (سنن الترمذی۔کتاب الزھد۔باب ما جاء مثل الدنيا مثل اربعة نفر حديث: 2325) کھول دیتا ہے۔ظلم پر ظلم پر صبر کی اہمیت پس یہاں صبر کے حوالے سے میں یہ بات کرنی چاہتا ہوں۔ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ظ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا مقبول ہے کہ اس کی عزت اللہ تعالیٰ خود قائم فرما دیتا ہے۔ہمارے معاشرے میں روز مرہ معاملات میں اگر لوگ اس اصل کو سمجھ لیں تو ایک پر امن معاشرہ قائم ہو جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔عمر بن سعد اپنے والد سعد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ا ہم نے فرمایا: مسلمان پر مجھے تعجب آتا ہے اس لئے کہ جب اسے کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر بجالا تا ہے اور جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس پر اجر کی امید رکھتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے۔مسلمان کو ہر حال میں اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اُس لقمے میں بھی جو وہ اپنے منہ میں ڈالتا ہے۔(مسند احمد بن حبل مند سعد بن ابی وقاص - جلد اول صفحہ 479۔حدیث نمبر 1531) ایک دوسری روایت میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔حضرت صہیب بن سنان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔اس کے سارے کام برکت ہی برکت ہوتے ہیں۔یہ فضل صرف مومن کے لئے مختص ہے۔اگر اس کو کوئی خوشی و مسرت و فراخی نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہے۔اور اس کی شکر گزاری اس کے لئے مزید خیر و برکت کا موجب بنتی ہے۔اور اگر اُس کو کوئی دُکھ اور رنج، تنگی اور نقصان پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے۔اور اس کا یہ طرز عمل بھی اس کے لئے خیر و برکت کا ہی باعث بن جاتا ہے۔کیونکہ وہ صبر کر کے ثواب حاصل کرتا ہے۔(مسلم۔کتاب الزھد۔باب المومن امرہ کلّہ خیر حدیث :7394) پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم نے فرمایا : کسی