خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد ہشتم 245 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 سب جو ہیں اور ہم میں سے ہر ایک جو ثبات قدم کا مظاہرہ کر رہا ہے اللہ تعالیٰ کے پیار کو یقیناً جذب کرنے والا۔لا ہے۔پس اس روح کو کبھی مرنے نہ دیں۔کبھی مرنے نہ دیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آج میں اس شہید کا جنازہ بھی ابھی جمعہ کے بعد پڑھوں گا۔اور ملک عطاء محمد صاحب کو بھی بیچ میں شامل کر رہے ہیں۔اسی طرح ہمارے مصر کے ایک احمدی احمد محمد حاتم علمی شافعی یہ 20 مئی کو گردے فیل ہونے کی وجہ سے جوانی کی عمر میں ہی فوت ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی 20،22 سال کی عمر تھی۔یہ ڈاکٹر محمد حاتم صاحب کے بڑے بیٹے تھے ، اور علمی شافعی صاحب مرحوم کے پوتے تھے۔علمی شافعی صاحب کو تو سارے جانتے ہیں۔یہ لقاء مع العرب میں ان کے کافی پروگرام حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے ساتھ ریکارڈ ہوئے ہوئے ہیں۔یہ بچپن سے معذور تھے۔اور wheel chair پر تھے۔لیکن اس کے باوجود بڑے صبر سے اپنی بیماری برداشت کرتے رہے اور اپنی والدہ کو بھی کہتے تھے کہ میں صبر سے سب کچھ برداشت کرتا ہوں پریشان نہ ہوں۔ان کی والدہ کہتی ہیں کہ میں حیران ہوتی تھی ان کا صبر دیکھ دیکھ کے۔اور تسلی جب ان کو دلائی جاتی، جب بیماری ان کی بڑھی ہے ، تو خود ہی اپنی والدہ کو ، اپنے عزیزوں کو بڑی تسلی دیا کرتے تھے۔والدہ نے کہا کہ سب بہن بھائیوں سے بڑھ کر یہ ہماری اطاعت کرنے والے تھے۔اور ان کے والد ڈاکٹر حاتم شافعی صاحب جو ہیں، میں نے ذکر کیا ہے مصریوں کا، کہ ان کو جیل میں رکھا ہوا ہے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہیں۔اور حاتم صاحب صدر جماعت بھی ہیں۔تو وہ جیل میں تھے جب یہ فوت ہوئے ہیں۔باوجو د معذوری کے ، معذور تو تھے لیکن بزنس کی ڈگری انہوں نے لی ہے، پڑھتے رہے ہیں۔کمپیوٹر کے کورس کئے ہوئے تھے۔اور یہ بڑا ارادہ رکھتے تھے کہ اپنے دادا مرحوم کی طرح جماعتی لٹریچر میں ان کی مدد کریں گے۔خلافت سے بڑی محبت کا تعلق تھا، میرے اس عرصے میں گزشتہ دودفعہ یہاں جلسہ میں بھی آچکے ہیں۔والدہ یہ کہتی ہیں کہ وفات کے وقت ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَلَّة، اور پھر لبيك اللهم لبيك کہا۔گردے فیل ہونے کی وجہ سے کچھ عرصے سے ڈائی لیوسز (Dialysis) کے لئے جاتے تھے۔والد ان کے اسیر راہِ مولیٰ ہیں اور ابھی جیل میں ہی ہیں ، وہ تو ان کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند کرے۔اور والدین کو اور عزیزوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 24 مورخہ 11 جون تا 17 جون 2010 صفحہ 5 تا 9)