خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد ہشتم 62 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 جو بزرگ تھے نیک فطرت تھے ، سعید فطرت تھے باوجود اس کے کہ وہ بیعت میں فورا شامل ہو گئے تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ مزید مضبوطی پیدا کرنے کے لئے بعض کشوف اور رو یاد کھاتا ہے۔ایک روایت مکرم سوہنے خان صاحب آف سٹھیانہ ہوشیار پور کی ہے۔کہتے ہیں اب میں صداقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی بیان کرتا ہوں کہ جو میرے پر ظاہر ہوئی۔جس وقت احرار کا زور تھا اور مستریان نے حضور پر تہمت لگائی تھی۔( یہ ایک اور واقعہ ہو ا جب احرار نے شور مچایا اور اندرونی فتنہ بھی اٹھا اور بیرونی فتنہ بھی اٹھا تو اس وقت کہتے ہیں کہ ) میں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے اللہ ! میرے پیر کی عزت رکھ۔وہ تو میرے مسیح کا بیٹا ہے۔بہت دعا کی اور بہت درود شریف اور الحمد شریف پڑھا اور دعا کر تار ہا( تو کہتے ہیں خواب عالم شہود میں ایک شخص میرے پاس آیا۔اس نے بیان کیا (کہ) مشرق کی طرف بڑھ گاؤں میں مولوی آئے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو ہم نے جڑ سے اکھیڑ دینا ہے اور بندہ اور برکت علی احمدی اور فتح علی احمدی کو ساتھ لے کر خواب ہی میں ان کی طرف روانہ ہوئے۔( یعنی وہ ان کو لے کے تین آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔کہتے ہیں کہ) ہم موضع پنڈوری قد میں پہنچے اس وقت نماز عصر کا (وقت) ہو گیا اور میں نے ) امام بن کر ہر دو احمدی کو نماز پڑھانی شروع کر دی۔اتنے میں خر دخان اور غلام غوث احمدی پھگلا نہ بھی آگئے۔میں نے آسمان کی طرف دیکھا آسمان پر دو چاند ہیں ایک چاند بہت روشن ہے دوسر اچاند مربع شکل اس کے ساتھ لگا ہوا ہے وہ بے نور ہے۔روشنی نہیں ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے اس میں روشنی ہونے لگ گئی۔غرضیکہ وہ چاند دوسرے چاند کے برابر روشن ہو گیا۔میں نے دعا کی۔یہ دونوں ایک قسم کے روشن ہو گئے ہیں۔اس وقت مجھے ندا ہوئی ( آواز آئی) کہ پہلا چاند مرزا صاحب یعنی مسیح موعود ہیں اور یہ دوسرا چاند جواب روشن ہو ا ہے یہ میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی نہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 12 صفحہ 200-199 روایات میاں سوہنے خان صاحب) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت مسیح موعود کے وہ موعود بیٹے تھے جن کے بارہ میں بے شمار پیشگوئیاں پیدائش سے پہلے تھیں۔مصلح موعود کی پیشگوئی سب سے مشہور ہے اور ہر احمد کی جانتا ہے۔آپ کے دور خلافت میں باوجود انتہائی نامساعد حالات کے تبلیغ اسلام اور انوار محمدی پھیلانے کا بہت وسیع کام ہوا ہے۔اس وقت بھی فتنے اٹھتے تھے اور اب بھی وقتا فوقتا بعض فتنے اٹھ جاتے ہیں اور عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے نام پر اٹھتے ہیں۔جماعت میں کوئی بے چارہ مجذوب جس کا دماغ ہل جائے تو اور اس کو کچھ سوجھے نہ سو مجھے وہ کم از کم مصلح موعود ہونے کا دعویٰ ضرور کرتا ہے۔لیکن اصل خطر ناک بات یہ ہے کہ وہ بے چارے اس وقت تو مجبور ہیں ، دماغی حالت ایسی ہوتی ہے لیکن اس کو بھڑ کانے والے، اس فتنے میں شامل ہونے والے بعض ایسے لوگ جو جماعت میں رہ کر اس فتنے کی پشت پناہی کر رہے ہوتے ہیں وہ یقیناً منافق ہوتے ہیں۔یا ایسے لوگ ہیں جو پھر جماعت کو بھی چھوڑتے ہیں