خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 676 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 676

خطبات مسرور جلد ہشتم 676 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31دسمبر 2010 حضرت آدم کو وفات دی اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اس میں بندہ حرام چیز کے علاوہ جو بھی اللہ سے مانگے تو وہ اسے عطا کرتا ہے اور اسی دن قیامت برپا ہو گی۔مقرب فرشتے، آسمان اور زمین اور ہوائیں اور پہاڑ اور سمند ر اس دن سے خوف کھاتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ - کتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب فی فضل الجمعة حديث نمبر 1084) پس اس دن کا فیض پانے کے لئے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے گزارنے کی ضرورت ہے۔اس دن جہاں نیک اعمال کرنے والوں کے جنت میں جانے کے سامان ہیں تو شیطان کے بھرے میں آ کر غلط کام کر کے ، غلط عمل کر کے جنت سے نکلنے کی بھی خبر ہے۔اور پھر ہم جو اس زمانے کے آدم کے ماننے والے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے آدم کہہ کر مخاطب فرمایا ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ اور سلطان بنایا ہے۔پس اس آدم کے ذریعہ اب دنیا میں بھی جنت قائم ہونی ہے جس نے اخروی جنت کے بھی سامان کرنے ہیں۔جب آپ کے ذریعہ نئی زمین اور نیا آسمان بنا ہے تو وہ کوئی ماڈی زمین اور ماڈی آسمان تو نہیں بننا بلکہ حضرت محمد مصطفی ملی لیلی کیم کے اس غلام صادق کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والے پید اہوں گے جو خدا کی رضا کے حصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے۔دنیا میں روحانی نظام کے قیام کے لئے نئی زمین اور نئے آسمان بنانے کی کوشش کریں گے۔قربانیوں کے اعلیٰ معیار پر قائم ہوں گے۔اعمالِ صالحہ بجالانے والے ہوں گے اور اعمالِ صالحہ میں اضافہ کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ان کے پیش نظر ہو گا۔پس اگر تو ہم نے اس زمانے کے امام کے ساتھ کئے گئے خدا تعالیٰ کے وعدوں سے فیض پانا ہے اور دونوں جہان کی نعمتوں سے حصہ لینا ہے تو ایسے اعمال کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے چھوٹے سے چھوٹے حکم سے لے کر ہر بڑے حکم پر اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس ترقی کا حصہ بن جائیں جو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمائی ہے۔اُن خوشخبریوں کا حصہ بن جائیں جو ہمارے قربانی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے۔پس ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں تجھے فتوحات دوں گا، یہ تو ہو گا اور انشاء اللہ تعالیٰ یقیناً ہو گا لیکن ہمیں اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی بھی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ ( حم السجدة: 9) - یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور اس کے مطابق نیک عمل بھی کئے اُن کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔پس ایمان لا کر پھر نیک اعمال بھی ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی، خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمالِ صالحہ ہیں۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 14۔مطبوعہ ربوہ)