خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 632

خطبات مسرور جلد ہشتم 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 جن کو کسی سے صحیح عشق اور محبت ہو ، وہ اس کے پیاروں کو بھی پیارا رکھتے ہیں۔یہ نہیں کہ ایک طرف تو عشق کا دعویٰ ہو اور جو اُس معشوق کے محبوب، اُن کی اولادیں ہوں، اُن سے نفرت ہو۔یا کسی سے عشق کا دعویٰ کر کے اُس کی زندگی میں تو اس کے پیاروں کو پیارا ر کھا جائے لیکن آنکھیں بند ہوتے ہی پیاروں سے پیار کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں ، سب کچھ ختم ہو جائے۔یہ دنیا داروں کا طریق تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والوں کا نہیں۔روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق اپنی خلافت کے زمانے میں کہیں جارہے تھے تو راستے میں انہوں نے آنحضرت صلی علیہم کے پیارے نواسے کو بچوں میں کھیلتے دیکھ کر کندھے پر بٹھا لیا۔( بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله له باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما حدیث : 3750) اور پیار فرماتے ہوئے فرمایا: میرے آقا حضرت محمد مصطفی صلی علیہ کم کو یہ بہت پیارا تھا۔اس لئے میں اس کو پیار کر رہا ہوں۔تو یہ ہیں وفاؤں اور پیار کے قرینے اور سلیقے۔لیکن کربلا میں آپ سے کیا سلوک ہوا؟ جس تعلیم کو شكرة آنحضرت علی ایم لے کر آئے تھے اس کی پامالی کس طرح ہوئی؟ روایات میں آتا ہے کہ جب آپ کے دشمنوں نے غلبہ پا لیا تو آپ نے (حضرت امام حسین نے) اپنے گھوڑے کا رُخ فرات کی طرف ( دریا کی طرف) کیا۔ایک شخص نے کہا کہ ندی اور ان کے درمیان حائل ہو جاؤ۔چنانچہ لوگوں نے آپ کا راستہ روک لیا اور دریا تک نہ جانے دیا۔اُس شخص نے آپ کو ایک تیر مارا جو آپ کی ٹھوڑی کے نیچے پیوست ہو گیا۔راوی آپ کی جنگ کی حالت کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ عمامہ باندھے ، وسمہ لگائے ہوئے پیدل اس طرح قتال کر رہے تھے ، جنگ کر رہے تھے جیسے کوئی غضب کا شہسوار تیروں سے بچتے ہوئے حملہ کرتا ہے۔میں نے شہادت سے قبل آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم! میرے بعد بندگانِ خدا میں سے تم کسی بھی ایسے بندے کو قتل نہیں کرو گے جس کے قتل پر میرے قتل سے زیادہ خدا تم سے ناراض ہو۔واللہ مجھے تو یہ امید ہے کہ اللہ تمہیں ذلیل کر کے مجھ پر کرم کرے گا۔پھر میرا انتقام تم سے اس طرح لے گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔اللہ کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان جنگ کے سامان پیدا کر دے گا اور تمہارا خون بہایا جائے گا اور اللہ اس پر بھی راضی نہیں ہو گا یہاں تک کہ تمہارے لئے عذاب الیم کو کئی گنا بڑھا دے۔یہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو شہید کرنے کے بعد کس طرح سلوک کیا؟ کوفیوں نے خیموں کو لوٹنا شروع کر دیا حتیٰ کہ عورتوں کے سروں سے چادریں تک اتارنا شروع کر دیں۔عمرو بن سعد نے منادی کی کہ کون کون اپنے گھوڑوں سے حضرت امام حسین کو پامال کرے گا؟ یہ سن کر دس سوار نکلے جنہوں نے اپنے گھوڑوں سے آپ کی نعش کو پامال کیا یہاں تک کہ آپ کے سینے اور پشت کو چور چور کر دیا۔اس لڑائی میں حضرت امام حسین کے جسم پر تیروں کے 45 زخم تھے۔ایک دوسری روایت کے مطابق تینتیس زخم نیزے کے اور تینتالیس زخم تلوار کے