خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 45
خطبات مسرور جلد ہشتم 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 کر کے آتے ہیں۔ایک جگہ تو فجر اور عشاء کی نماز نہ پڑھنے والوں کے بارہ میں بڑی سختی سے اندار بھی فرمایا ہوا ہے۔پس یہ ہیں وہ لوگ جو آنحضرت صلی للی کم کی پیروی میں آپ کے احکامات پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے نور حاصل کرتے ہیں۔پھر بخشش اور شفاعت کا مضمون ہے جو آنحضرت صلی علیہ کم کے ساتھ ، آپ کے وجود کے ساتھ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ایک روایت میں اس کا یوں ذکر آیا ہے۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علی ظلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب اللہ اولین و آخرین کو جمع کرے گا اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور جب وہ فیصلہ سے فارغ ہو جائے گا تو مومنین کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا ہے۔کون ہے جو ہمارے رب کے حضور ہمارے لئے شفاعت کرے۔( یہ مومنین کا فیصلہ ہوا ہے اور مومنین پوچھ رہے ہیں۔کون ہے جو شفاعت کرے؟)۔پھر وہ کہیں گے کہ آدم کے پاس چلو کیونکہ اللہ نے اسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور اس سے کلام کیا ہے۔وہ آدم کے پاس آکر کہیں گے کہ آپ چلیں اور ہمارے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں تو آدم کہیں گے تم نوح کے پاس جاؤ۔پھر وہ نوح کے پاس آئیں گے تو وہ ان کو ابراہیم کے پاس بھیج دیں گے۔پھر وہ ابراہیم کے پاس آئیں گے تو وہ ان کو موسیٰ کے پاس جانے کا کہیں گے۔پھر وہ موسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ ان کو عیسی کی طرف راہنمائی کریں گے۔وہ عیسی کے پاس آئیں گے تو وہ ان سے کہیں گے میں تمہاری نبی اُمّی کی طرف راہنمائی کرتاہوں۔آپ نے فرمایا کہ پھر وہ میرے پاس آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے حضور کھڑے ہونے کی اجازت دے گا۔پھر میرے بیٹھنے کی جگہ سے ایسی خوشبودار ہوا اٹھے گی جسے کبھی کسی نے پہلے نہیں سونگھا ہو گا۔یہاں تک کہ میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گا۔پھر وہ مجھے شفاعت کی اجازت دے گا اور میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پاؤں کے ناخنوں تک نور بھر دے گا۔اُس وقت کافر ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو ایسے وجود کو ڈھونڈ لیا ہے جو ان کی شفاعت کرے۔پس تو بھی اٹھ اور اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر کیونکہ تو نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔آپ صلی لی ہم نے فرمایا کہ وہ اٹھے گا تو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے ایسی بدبودار ہوا آئے گی جسے کبھی کسی نے پہلے نہیں سونگھا ہو گا۔پھر اسے جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔اس وقت وہ کہے گا کہ وَقَالَ الشَّيْطنُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدُتُكُمْ فَأَخَلَفْتُكُم - (ابراہیم : 23) اور شیطان کہے گا کہ جب یہ فیصلہ نیٹا دیا جائے گا کہ یقیناً اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا جبکہ میں ہمیشہ تم سے وعدہ کرتا تھا اور پھر میں خلاف ورزی کرتا رہا۔( سنن الدار می کتاب الرقاق باب في الشفاعۃ حدیث 2806) اور آج بھی یہ اس وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔پس یہ مقام ہے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء سال یہ کہ کہ آپ کا نور سب انبیاء کے