خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 606

خطبات مسرور جلد ہشتم 606 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 بے تحاشا گالیوں سے بھر اہوا جور سالہ تھا آپ نے اُس کے جواب میں پورے حلم اور حوصلہ اور صبر و تحمل کا اظہار کیا۔آپ کے سکونِ خاطر اور کوہ و قاری کو کوئی چیز جنبش نہ دے سکتی تھی۔بڑی پر سکون طبیعت تھی۔بڑی باوقار طبیعت تھی۔یعنی اس طرح کہ جس طرح پہاڑ ہو۔گویا کہ وہ ایک عظیم شخصیت تھے۔وقار کا ایک پہاڑ تھے اور یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ کسی قسم کی گالیوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہو تا تھا۔یعنی کبھی یہ نہیں ہوا کہ بے و قاری دکھاتے ہوئے گالیوں کے جواب میں ، گالیوں کا جواب آپ کی طرف سے جائے۔فرماتے ہیں کہ یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ خدا تعالیٰ کی وحی جو آپ پر ان الفاظ میں نازل ہوئی تھی کہ فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (احقاف: 36) فی الحقیقت خدا کی طرف سے تھی اور اُسی خدا نے وہ خارق عادت اور فوق الفطرت صبر اور حوصلہ آپ کو عطا فرمایا تھاجو اولوا العزم رسولوں کو دیا جاتا ہے۔قبل از وقت خدا تعالیٰ نے متعدد فتنوں کی آپ کو اطلاع دی تھی اور وہ فتنے اپنے اپنے وقت پر پوری شدت اور قوت کے ساتھ ظاہر ہوئے۔مگر کسی موقعہ اور مرحلہ پر آپ کے پائے ثبات کو جنبش نہ ہوئی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 464-463) پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مزید لکھتے ہیں کہ محبوب رائیوں والے مکان کا واقعہ ہے۔ایک جلسہ میں جہاں تک مجھے یاد ہے ایک برہمو لیڈر ( غالباً انباش موزم دار بابو تھے ) حضرت سے کچھ استفسار کر رہے تھے (ایک ہندو لیڈر استفسار کر رہے تھے ، سوال پوچھ رہے تھے )۔حضرت جواب دیتے تھے۔اسی اثناء میں ایک بد زبان مخالف آیا اور اس نے حضرت مسیح موعود کے بالمقابل نہایت دلآزار اور گندے حملے آپ پر کئے۔کہتے ہیں وہ نظارہ اس وقت بھی میرے سامنے ہے۔آپ منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ، جیسا کہ اکثر آپ کا معمول تھا کہ پگڑی کے شملے کا ایک حصہ منہ پر رکھ لیا کرتے تھے۔پگڑی کا حصہ منہ پر رکھ دیا کرتے تھے۔یا بعض اوقات صرف ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔خاموش بیٹھے رہے ، اس کی گالیاں سنتے رہے اور وہ شورہ پشت بکتا رہا۔فسادی طبیعت کا آدمی بولتا رہا۔آپ اسی طرح پر مست اور مگن بیٹھے تھے کہ گویا کچھ ہو ہی نہیں رہا یا کوئی نہایت ہی شیریں مقال گفتگو کر رہا ہے۔اس ہندو لیڈر نے اسے منع کرنا چاہا مگر اس نے پر واہ نہ کی۔حضرت نے ان کو فرمایا کہ آپ اسے کچھ نہ کہیں، کہنے دیجئے۔آخر وہ خود ہی بکواس کر کے تھک گیا اور اٹھ کر چلا گیا۔برہمولیڈ ر بے حد متأثر ہوا۔اور اس نے کہا کہ یہ آپ کا بہت بڑا اخلاقی معجزہ ہے۔اس وقت حضور اسے چپ کر اسکتے تھے۔اپنے مکان سے نکلوا سکتے تھے ( یعنی آیا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جگہ پر تھا۔) اور بکو اس کرنے پر آپ کے ایک ادنی اشارہ سے اُس کی زبان کائی جاسکتی تھی۔مگر آپ نے اپنے کامل حلم اور ضبطِ نفس کا عملی ثبوت دیا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 444-443)