خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد ہشتم 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 نے کہا تھا کہ احمدی بھی بغیر سوچے سمجھے اپنے بچوں کو اس میں شامل ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں، حالانکہ اگر اس کو گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ عیسائیت میں آئی ہوئی ایک ایسی بدعت ہے جو شرک کے قریب کر دیتی ہے۔چڑیلیں اور جن اور شیطانی عمل، ان کو تو بائبل نے بھی روکا ہوا ہے۔لیکن عیسائیت میں یہ راہ پاگئی ہیں کیونکہ عمل نہیں رہا۔عموماً اس کو fun سمجھا جاتا ہے کہ بس جی بچوں کا شوق ہے پورا کر لیا۔تو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر وہ کام چاہے وہ ifiunی سمجھا جائے جس کی بنیاد شرک یا کسی بھی قسم کے نقصان کی صورت میں ہو اس سے احمدیوں کو بچنا چاہئے۔مجھے اس بات پر توجہ پید اہوئی جب ہماری ریسرچ ٹیم کی ایک انچارج نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے ان سے کہا کہ halloween پر وہ اور تو کچھ نہیں کرے گی لیکن اتنی اجازت دے دیں کہ وہ لباس وغیرہ پہن کر، خاص costume پہن کے ذرا پھر لے۔چھوٹی بچی ہے۔انہوں نے اسے منع کر دیا۔اور پھر جب ریسرچ کی اور اس کے بارہ میں مزید تحقیق کی تو بعض عجیب قسم کے حقائق سامنے آئے۔تو میں نے انہیں کہا کہ مجھے بھی کچھ (حوالے) دے دیں۔چنانچہ جو میں نے دیکھے اس کا خلاصہ میں بیان کرتا ہوں۔کیونکہ اکثر بچے بچیاں مجھے سوال کرتے رہتے ہیں۔خطوط میں پوچھتے رہتے ہیں کہ halloween میں شامل ہونے کا کیا نقصان ہے ؟ ہمارے ماں باپ ہمیں شامل نہیں ہونے دیتے۔جبکہ بعض دوسرے احمدی خاندانوں کے بچے اپنے والدین کی اجازت سے اس میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں۔تو بہر حال ان کو جو کچھ میرے علم میں تھا اس کے مطابق میں جواب تو یہی دیتارہتا تھا کہ یہ ایک غلط اور مکر وہ قسم کا کام ہے اور میں انہیں روک دیتا تھا۔لیکن اب جو اس کی تاریخ سامنے آئی ہے تو ضروری ہے کہ احمدی بچے اس سے بچیں۔عیسائیت میں یا کہہ لیں مغرب میں، یہ رسم یا یہ بدعت ایک آئرش ازم کی وجہ سے آئی ہے۔پرانے زمانے کے جو pagan تھے ان میں پرانی بد مذہبی کے زمانے کی رائج ہے۔اس کی بنیاد شیطانی اور چڑیلوں کے نظریات پر ہے۔اور مذہب اور گھروں کے تقدس کو یہ سارا نظریہ جو ہے یہ پامال کرتا ہے۔چاہے جتنا بھی کہیں کہ یہ Fun ہے لیکن بنیاد اس کی غلط ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اس میں شرک بھی شامل ہے۔کیونکہ اس کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ زندوں اور مردوں کے درمیان جو حدود ہیں وہ 31 اکتوبر کو ختم ہو جاتی ہیں۔اور مردے زندوں کے لئے اس دن باہر نکل کے خطر ناک ہو جاتے ہیں۔اور زندوں کے لئے مسائل کھڑے کر دیتے ہیں۔بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اسی طرح کی اوٹ پٹانگ باتیں مشہور ہیں۔اور پھر اس سے بچنے کے لئے جو ان کے نام نہاد جادوگر ہوتے ہیں ان جادو گروں کو بلایا جاتا ہے جو جانوروں اور فصلوں کی ان سے لے کر ایک خاص طریقے سے قربانی کرتے ہیں۔bonfire بھی اسی نظریہ میں شامل ہے تا کہ ان مردہ روحوں کو ان حرکتوں سے باز رکھا جائے۔ان مر دوں کو خوفزدہ کر کے یا بعض قربانیاں دے کر ان کو خوش کر کے باز رکھا جائے۔اور پھر یہ ہے کہ پھر اگر ڈرانا ہے تو اس کے لئے costume اور خاص قسم کے لباس وغیرہ بنائے گئے ہیں، ماسک وغیرہ پہنے جاتے ہیں۔بہر حال بعد