خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 540
خطبات مسرور جلد ہشتم 540 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010ء بمطابق 22 اخاء 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَ لَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران:105) وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَ ليُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبه : 122) یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں۔پہلی آیت سورۃ آلِ عمران کی ہے۔اس کا ترجمہ ہے کہ ”چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیکی کی تعلیم دیں اور بدیوں سے روکیں اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں“۔وقف زندگی کا نظام دوسری آیت سورۃ توبہ کی ہے۔اس کا ترجمہ ہے کہ ”مومنوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ تمام کے تمام اکٹھے نکل کھڑے ہوں۔پس ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ان کے ہر فرقے میں سے ایک گروہ نکل کھڑ ا ہو تا کہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور اپنی قوم کو خبر دار کریں جب ان کی طرف واپس لوٹیں تا کہ شاید وہ ہلاکت سے بچ جائیں“۔ان آیات میں جیسا کہ ابھی دیکھا اللہ تعالیٰ نے ایسے گروہ کا ذکر فرمایا ہے جو دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں تاکہ نیکیوں کو قائم کریں، برائیوں سے روکیں اور تبلیغ اسلام میں اپنی زندگی گزاریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں دین کی خاطر زندگی وقف کرنے کا نظام کسی نہ کسی شکل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہی قائم ہے اور خلافت ثانیہ میں اس میں ایک با قاعدگی پید اہوئی۔باقاعدہ زندگی وقف کرنے کے بانڈ (Bond) یا فارم پر کئے جانے لگے۔دینی تعلیم کے لئے جامعہ احمدیہ کے نظام کو مزید منظم کیا گیا۔مبلغین بیرون ملک بھیجے جانے لگے جنہوں نے تبلیغی میدانوں میں بڑے کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے۔اور اللہ