خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 373

خطبات مسرور جلد ہشتم 373 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 ایک مولوی صاحب نے خلیفہ اول کے سامنے اعتراض پیش کیا کہ مولوی صاحب ! پہلے جتنے نبی ولی گزرے ہیں وہ تو کئی کئی فاقوں کے بعد بالکل سادہ غذا کھاتے تھے اور مرزا صاحب سنا ہے کہ پلاؤ اور زردہ بھی کھاتے ہیں ؟ مولوی صاحب نے ان کو جو ابا کہا کہ مولوی صاحب! میں نے قرآن مجید میں زردہ اور پلاؤ حلال ہی پڑھا ہے۔اگر آپ نے کہیں دیکھا ہے کہ حرام ہے تو بتائیں۔اور اس مولوی نے تھوڑی دیر سکوت جو کیا تو میں نے جھٹ وہ اشتہار نکال کر مولوی نورالدین صاحب کے آگے رکھا کہ ایک ہمارا مولوی قسم بھی قرآن اٹھا کر کھاتا تھا کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہوئے ہیں اور ہم کو جو بتایا گیا ہے کہ یہی مرزا صاحب ہیں، وہ تو تندرست ہیں۔آپ بتائیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں جن کو ہم نے نماز میں دیکھا ہے یا کوئی اور۔مولوی صاحب نے جھٹ جیب میں ہاتھ ڈال کر وہی اشتہار نکال کر بتلایا کہ دیکھو ہم کو تمہارے مولویوں نے یہ اشتہار روانہ کیا ہے۔اب یہ مرزا ہے اور وہ تمہارے مولوی جس نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولا۔جس کو چاہو سچا مان لو۔تو مولویوں کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے۔لیکن آج کل پاکستان میں مولویوں کے ساتھ میڈیا بھی شامل ہو گیا ہے۔اور اس کے بعض پروگراموں کے اینکر جو ہیں وہ بھی مولویوں کے رول ادا کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔جھوٹ اور سچ کی کوئی پہچان نہیں رہی اس ملک میں۔بہر حال کہتے ہیں بس پھر کیا تھا میرے آنسو نکل گئے۔میں نے دل میں کہا کہ کمبخت اب بھی تو بیعت نہ کرے گا؟ واقعی یہ مولوی زمانے کے دجال ہیں۔ہم تینوں نے ظہر کے وقت حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ہم کو بیعت میں لے لیں۔حضور نے کہا جلدی مت کرو، کچھ دن ٹھہر و۔ایسا نہ ہو کہ پھر مولوی تم کو پھسلاویں۔اور تم زیادہ گنہگار ہو جاؤ۔میں نے رورو کر عرض کی کہ حضور! میں تو اب کبھی پھسلنے کا نہیں۔خیر دوسرے روز ہم تینوں نے بیعت کر لی۔اور گھر واپس آگئے۔اس لئے بند کرتا ہوں۔پھر لکھتے ہیں کہ افسوس آگے مخالفت کی وجہ سے ہمارا جو حال ہوا اگر جگہ ہوتی تو اور بھی لکھتا مگر جگہ نہیں (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) نمبر 5 صفحہ 45 تا 49) تو یہ کہتے ہیں میرے پر احسان اس مولوی صاحب نے کیا جو قرآن اٹھا کر جھوٹی قسمیں کھا رہا تھا۔اس کی وجہ سے مجھے شوق پیدا ہو ا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے کا، اور حقیقت معلوم کرنے کا اور یہ میری احمدیت کی وجہ بنی۔ایک روایت ہے حضرت میاں عبد العزیز صاحب ولد میاں امام دین صاحب سکنه اوجله تحصیل گورداسپور کی۔انہوں نے 1893ء میں بیعت کی۔لکھتے ہیں کہ جب 1891ء میں میری تبدیلی حلقہ سیکھواں پر ہوئی اور میاں جمال دین صاحب اور میاں امام دین صاحب اور میاں خیر دین صاحب سے واقفیت ہوئی تو انہوں نے