خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد ہشتم 302 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 کے بعد مقابلے کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوئے اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔گارڈن ٹاؤن میں اس وقت سیکرٹری مال کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔ان کے گھر والے کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جانے سے قبل گھر میں سینے پر ہاتھ باندھے لیٹے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج سکون کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔جانے کو جی نہیں چاہ رہا۔پھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے چلے گئے اور جاتے ہوئے آواز دی کہ میں جا رہا ہوں۔پھر دوسری دفعہ کہا کہ میں جاہی رہا ہوں۔داماد کے ساتھ بیت النور میں باہر محسن میں بڑی کرسیوں پر بیٹھے تھے، شروع کے حملے میں کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو فوری طور پر ہال کے اندر بھجوا دیا گیا۔جہاں ان کی شہادت ہوئی۔جسم پر تین گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ کافی سال قبل شہید مرحوم نے بتایا کہ ان کو آواز آئی کہ اِنِّي رَافِعُكَ وَ مُتَوَفِّيكَ۔شاید سننے والے نے یا بیان کرنے والے نے الٹا لکھ دیا ہو۔ہو سکتا ہے انِي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ ہو، بہر حال جو بھی ہے، کہتے ہیں مجھے آواز آئی لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔کہتے ہیں شہادت سے دس پندرہ بیس دن پہلے مجھے یہ آواز آئی کہ We recieve you with open arms with red carpet شہید مرحوم نے شہادت سے چند دن قبل خواب میں ایک گھر دیکھا۔اس میں ایک خوبصورت بگھی آکر ر کی اور آواز آئی ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے کہا کرتے تھے کہ میں اپنے آباؤ اجداد کی طرح دین کی خدمت نہیں کر سکا۔اس سے بڑے پریشان ہوتے تھے۔حقوق العباد کی ادائیگی ان کا خاص وصف تھا۔صلہ رحمی کرنے والے تھے اور بڑے زندہ دل آدمی تھے۔مکرم نور الامین صاحب مکرم نور الامین صاحب شہید ابن مکرم نذیر نیم صاحب۔شہید مرحوم راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔وہیں سے میٹرک کیا۔اس کے بعد نیوی میں بطور فوٹوگرافر بھرتی ہو گئے۔ان کے دادا حضرت پیر فیض صاحب رضی اللہ عنہ آف اٹک صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔جب کہ ان کے پڑنانا مکرم بابو عبد الغفار صاحب تھے جو امیر ضلع حیدر آباد ر ہے اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے ، مجلس خدام الاحمدیہ کے بڑے ذمے دار اور محنتی رکن تھے۔منتظم عمومی حلقہ ماڈل ٹاؤن خدمت سر انجام دے رہے تھے۔کلوز سرکٹ سسٹم کی مانیٹرنگ کرتے رہے جو مسجد میں لگایا تھا۔کچھ عرصے کے لئے کراچی چلے گئے شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔سانحہ کے دوران ان کا اپنے گھر والوں کو اور دوستوں کو فون آیا کہ میں ایسی جگہ پر ہوں کہ اگر چاہوں تو نکل سکتا ہوں، لیکن میری یہاں ڈیوٹی ہے۔یہ دارالذکر کے صحن میں پڑی ڈش انٹینا کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔وہیں گرینیڈ لگنے سے شہید ہوئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بے انتہا خوبیوں کے مالک تھے۔