خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد ہشتم 173 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 پس عبادت کے بغیر وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جس کے لئے انبیاء آتے ہیں اور جس کے لئے آنحضرت صلی الله علوم انسان کامل اور اول المسلمین تشریف لائے۔اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور حکمت کی باتوں کی سمجھ اس وقت آتی ہے جب نفس میں پاکیزگی ہو۔اور نفس کی پاکیزگی اس وقت آتی ہے جب عبادت کے اسلوب آتے ہوں، جب خداتعالی رہنمائی فرمائے اور اس عبادت کے طریق سکھائے جو اس کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔ہم احمدیوں کی خوش قسمتی ہے کہ ہم اس رسول صلی کم پر ایمان لائے جنہوں نے ہمیں وہ عبادت کے طریق سکھائے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے والے ہیں۔اور پھر ہماری خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے آنحضرت صلی ایم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق ملی جنہوں نے ہمیں بار بار دعاؤں اور عبادت کی طرف توجہ دلائی اور واضح فرمایا کہ جہاں دعوت الی اللہ کے لئے علم حاصل کرو، وہاں اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ اپنے اعمال کی سمت بھی درست رکھو۔اپنے اعمال کو اس نہج پر بجالاؤ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دعاؤں اور عبادات پر زور دو۔پس ایک تو ہر احمدی جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال اس لئے درست رکھے کہ اس پر ہر ایک کی نظر ہے۔اگر کسی قسم کا ایسا دینی علم نہیں بھی ہے جو اسے فقال داعی الی اللہ بنا سکے تب بھی اس کا ہر فعل اور عمل اور قول دوسروں کی توجہ کھینچنے کا باعث بن سکتا ہے۔اگر نیک اعمال ہیں تو لوگ نیکی سے متاثر ہو کر قریب آئیں گے۔اگر نیک اعمال توجہ کھینچنے کا باعث نہیں ہیں تو شیطان کے چیلے جو ہیں اسے اپنے مقاصد کے لئے پکڑ لیں گے۔اس سے غلط حرکتیں کرائیں گے۔آج کل کے زمانے میں تو اس قسم کے لوگ ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں جو کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ہم کسی کو قابو کریں اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں۔اور پھر ایک احمدی جو ہے برائیوں میں پڑکر ان کے ہاتھوں میں چڑھ کر جماعت کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔دوسری بات جیسا کہ میں پہلے گزشتہ تقریر میں شائد بتا چکا ہوں کہ ہر احمدی جو پاکستانی ہے عموماً اس کا باہر کے ملک میں آنا اس کے احمدی ہونے کی وجہ سے ہے۔اس لئے جہاں دنیا کمانے کی طرف توجہ دیتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے ہفتہ میں کچھ وقت کم از کم ایک دن تو ضرور دعوت الی اللہ کے لئے نکالیں۔یہاں جو چند سو احمدی ہیں اگر وہ فعال ہو جائیں تو تبلیغ کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔جماعتی طور پر بھی تبلیغ کا پروگرام بنے اور ذیلی تنظیموں کی سطح پر بھی تبلیغ کا پروگرام بنے تو ایک بہت بڑے طبقہ میں نہیں تو کم از کم ایک خاصے طبقہ میں جماعتی تعارف ہو جائے گا۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج کل ان لوگوں کو مذہب سے بھی لا تعلقی ہے اور ایک