خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد ہشتم 77 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010ء بمطابق 12 تبلیغ 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض صحابہ کے ایسے ایمان افروز واقعات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح وہ یقین پر قائم تھے، اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان کو یقین تھا۔اور کیسا ان کا تو شکل تھا اور کیسی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی محبت تھی اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کے لئے غیرت کے کیسے عجیب نمونے دکھاتا رہا، ان کا اظہار فرما تارہا۔پہلا واقعہ تو یہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں کہ وہاں ( یعنی کشمیر میں) ایک بوڑھے آدمی تھے انہوں نے بہت سے علوم و فنون کی حدود یعنی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں۔اور بڑے بڑے عالموں سے کسی علم کی تعریف دریافت کرتے۔وہ جو کچھ بھی بیان کرتے یہ جو عالم صاحب تھے ، یہ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے۔کیونکہ ان کو ہر چیز کی تعریف کے پختہ الفاظ یاد تھے۔اس طرح ہر شخص پر اپنا رعب بٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے ہیں کہ ایک دن سر دربار مجھ سے دریافت کیا (راجہ کے دربار میں) که مولوی صاحب! حکمت کس کو کہتے ہیں؟ اس نے اپنی طرف سے ایسا سوال کیا کہ کوئی تعریف بتائیں گے تو میں غلطی نکالوں گا۔تو حضرت خلیفہ اول کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ شرک سے لے کر عام بد اخلاقی سے بچنے کا نام حکمت ہے۔وہ حیرت سے دریافت کرنے لگے کہ یہ تعریف حکمت کی کہاں لکھی ہے ؟ تو خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ میرے پاس دہلی کے حکیم تھے جو حافظ بھی تھے، بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ ان کو سورۃ بنی اسرائیل کے چوتھے رکوع کا ترجمہ سنادو جس میں آتا ہے کہ ذلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ (بنی اسرائیل: 40) پھر تو وہ بہت حیرت زدہ ہوئے۔(ماخوذ از حیات نور باب سوم - صفحہ 174) (ماخوذ از مرقاة الیقین صفحہ 253,254 مطبوعہ ربوہ) یہ چوتھار کو ع 32 آیت سے لے کر 41 آیت تک ہے۔اس میں مختلف باتیں بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ سب برائیاں ہیں اور ان سے بچنا حکمت ہے۔یہ تو علماء کو چیلنج کیا کرتے تھے لیکن اس قسم کے علماء ہر