خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 75

خطبات مسرور جلد ہشتم 75 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 پہلے تحقیق کرواؤں، پتہ کروں اور جس کا نام پتہ ہی نہیں اس کی تحقیق بھی نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر کسی کو سزا ہو بھی تو میرے دل میں اس کے خلاف نفرت کبھی نہیں پیدا ہوئی، نہ کوئی گرہ پیدا ہوتی ہے بلکہ دکھ ہوتا ہے کہ ایک احمدی کو کسی بھی وجہ سے سزا ہوئی ہے۔بہر حال ایک احمدی کو ہمیشہ یہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاتَّقُوا اللهَ کہ تقویٰ اختیار کرو۔إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِیم کہ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جن کو اس قسم کی بدظنیوں کی یا تجسس کی یا غیبت کی عادت ہے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف کریں۔اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احساس ندامت لے کر میرے پاس آؤ گے تو میں تمہاری توبہ قبول کروں گا اور تمہارے ساتھ رحم کا سلوک کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنونِ فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزلِ مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔بدظنی بہت بُری چیز ہے۔انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 375 جدید ایڈیشن) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”بد ظنی صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے۔اس لئے تم اس سے بچو اور صدیق کے کمالات حاصل کرنے کے لئے دعائیں کرو“۔( ملفوظات جلد اول صفحه 247 مطبوعہ ربوہ) پھر فرمایا : ” بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ( شکوے شکایتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے ) ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے۔ایحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہو نا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یادشمنی پید اہو۔یہ سب بُرے کام ہیں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 653-654 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر ہم عمل کرنے والے ہوں اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرنے والے ہوں۔آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔مکرم سمیع اللہ صاحب ابن مکرم ممتاز احمد صاحب شہداد پور ضلع سانگھڑ