خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد ہشتم 73 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔ذرا ذرا سی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی الظلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 263-265 مطبوعہ ربوہ) پس یہ وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو نیکی اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہیں اور گناہ سے بچاتے ہیں اور زیادتی سے روکتے ہیں۔عبادتوں سے جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے تو یہ اعلیٰ اخلاق جو ہیں ان سے پھر حقوق العباد کی طرف توجہ بھی پیدا ہوتی ہے۔حسن ظن پھر ایک بہت بڑی برائی کی طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلاتے ہوئے یہ حکم فرمایا کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِنْهُ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمُ (الحجرات: 13) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بکثرت ظن سے اجتناب کیا کرو۔یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔اور تجسس نہ کیا کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں میں محبت، پیار اور بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ حسن ظن سے پیدا ہو تا ہے۔پس فرمایا کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بد ظنی گناہ کی طرف لے جاتی ہے ، جو نہ صرف انسان کی اپنی ذات کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو معاشرے کے امن کو بھی برباد کر دیتا ہے۔دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ایک ایسا گناہ جو انسان بعض اوقات اپنی انا کی تسکین کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو، تجسس بھی بعض اوقات بدظنی کی وجہ سے پیدا ہو تا ہے اور جب انسان کسی کے بارہ میں تجسس کر رہا ہوتا ہے اس کے بعد بھی جب پوری معلومات نہیں ملتیں تو جو معلومات ملتی ہیں انہی کو بنیاد بنا کر پھر بدظنیاں اور بڑھ جاتی ہیں اور بدظنی میں بعض اوقات انسان اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کی حالت دیکھ کر