خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد ہشتم 68 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 بیشک بعض غلط کام انسان سے پوشیدہ بھی ہوتے ہیں اور شیطان اس تلاش میں ہے کہ کب میں ابن آدم کو آدم کی طرح در غلاؤں اور ان گناہوں کی طرف راغب کروں۔اور ایسے خوبصورت طریق سے ان غلط کاموں اور گناہوں کا حُسن اس کے سامنے پیش کروں کہ وہ غلطی نہیں بلکہ اسے اچھا سمجھتے ہوئے اسے کرنے لگے اور پھر ان برائیوں میں ڈوب کر ان کو کرتا چلا جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہوشیار کر دیا کہ ان سے بچو یہ حرام چیزیں ہیں۔یہ تمہیں سزا کا مستوجب ٹھہرائیں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ (الاعراف:34) کہ میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو حرام قرار دیا ہے۔خواہ وہ ظاہری بے حیائیاں ہیں اور بد اعمال ہیں یا چھپی ہوئی بے حیائیاں ہیں یا بُرے اعمال ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کہ بے حیائی کی باتیں حرام ہیں بات ختم نہیں کر دی بلکہ جہاں بے حیائی کی باتوں کی نشاندہی فرمائی ہے کہ کون کون سی باتیں بے حیائی کی باتیں ہیں وہاں اس کا علاج بھی بتایا ہے کہ فواحش سے تم کس طرح بیچ سکتے ہو ایک جگہ فرمایا کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ( العنكبوت:46) کہ یقیناً نماز فحشاء اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔اور کیونکہ بے حیائی اور فحشاء اس زمانہ میں تو خاص طور پر ہر وقت انسان کو اپنے روز مرہ کے معاملات میں نظر آتے رہتے ہیں اور اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے پانچ وقت کی نمازیں رکھ کر ان سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنے کا راستہ دکھایا اور اس کی تلقین فرمائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : نماز کیا ہے ؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنا دیتی ہے۔کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے۔اب ذرا غور کرو“۔فرمایا ” اب ذرا غور کرو۔نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔اذان اللہ اکبر سے شروع ہوتی ہے۔یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا اِلهَ اِلَّا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اول و آخر اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور “۔فرمایا کہ ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 37 مطبوعہ ربوہ) پس اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے پر غور کریں کہ انسان کا اسم اعظم استقامت ہے تو ایک کوشش کے ساتھ اس نماز کی تلاش میں رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے تو اسے وہ نماز ادا کرنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شیطان کے حملوں سے محفوظ