خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد ہشتم 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : آپ یادرکھیں اور ہمارا مذ ہب یہی ہے کہ کسی شخص پر خدا کا نور نہیں چمک سکتا، جب تک آسمان سے وہ نور نازل نہ ہو۔یہ سچی بات ہے کہ فضل آسمان سے آتا ہے۔جب تک خدا خود اپنی روشنی اپنے طلب گار پر ظاہر نہ کرے اس کی رفتار ایک کیڑے کی مانند ہوتی ہے اور ہونی چاہئے، کیونکہ وہ قسم قسم کی ظلمتوں اور تاریکیوں اور راستہ کی مشکلات میں پھنسا ہوا ہوتا ہے، لیکن جب اس کی روشنی اس پر چمکتی ہے ، تو اس کا دل و دماغ روشن ہو جاتا ہے اور وہ نور سے معمور ہو کر برق کی رفتار سے خدا کی طرف چلتا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 464 جدید ایڈیشن) پس اللہ تعالیٰ کا نور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے محبت کرنے سے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے وہ نور عطا فرمائے جو اس کا حقیقی نور ہے۔جو اس کے پیاروں سے محبت کرنے سے ملتا ہے۔جس کو حاصل کرنے کے طریقے اس زمانے کے امام نے نور محمدی سے حصہ پا کر ہمیں سکھائے۔ہم دنیا کی لغویات میں پڑنے کی بجائے اپنے خدا سے اس نور کے ہمیشہ طلبگار رہیں اور ان لوگوں میں شمار ہوں جو ہمیشہ یہ دعا کرتے رہے ہیں کہ رَبَّنَا اثْمُ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحریم: 9) کہ اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے۔یقینا تو ہر چیز پر جسے تو چاہے دائی قدرت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا میں بھی اس دعا کے اثرات دکھائے اور مرنے کے بعد بھی ہمارے لئے یہ نور دائمی بن کر ہمارے ساتھ رہے۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 8 مورخہ 19 تا 25 فروری 2010 صفحه 5 تا 9)