خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 64

خطبات مسرور جلد ہشتم 64 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 الله العظیم۔حضرت مسیح موعود کی جو ایک الہامی دعا ہے وہ بھی ہے، سُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ العظيم - اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ “ ( تذکرہ صفحہ 25 ایڈ یشن چہارم 2004ء مطبوعہ ربوہ ) جس میں درود بھی آجاتا ہے۔تو بہر حال یہ تو ہم پڑھتے ہیں اور اس کو پڑھتے رہنا چاہئے۔میں نے جو بلی کی دعاؤں میں جو شامل کروائی تھیں اس میں ایک درود یہ بھی تھا۔اس کو بند نہیں ہونا چاہئے ، ہمیشہ جاری رہنا چاہئے کیونکہ درود شریف اور یہ جو دعا ہے، اللہ تعالیٰ کی جو تحمید اور تسبیح ہے یہ دل کی پاکیزگی کے لئے بہت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔اور اس زمانے میں جو لہو ولعب کا زمانہ ہے ہمیں بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو جاری رکھنے والے بن سکیں۔اور وہ اسی وقت ہو گا جب ہمارے دل بھی اس نور سے منور ہوں گے۔اور اسی سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کو ہم جذب کرنے والے ہوں گے۔پس درود اور عبادات سے ہمیں اپنی زندگیوں کو سجانا چاہئے۔پھر آپ علیہ السلام کے ماننے والوں کے نورانی ہونے کے بارہ میں اللہ تعالیٰ غیر وں کو کس طرح بتاتا ہے۔لیکن بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ باوجو د اس کے کہ اللہ تعالیٰ اطلاع دے دے پھر بھی اس سے فیض نہیں پاسکتے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی فرماتے ہیں کہ ”میری برادری میں سے میرے ایک چچازاد بھائی میاں غلام احمد تھے ان کی کچھ جائیداد موضوع لنگہ ضلع گجرات میں بھی تھی۔ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ایک تحریر کے کام کے لئے فرمائش کی جس کی تعمیل کے لئے میں ان کے ہمراہ موضع لنگہ چلا آیا۔گرمیوں کا موسم تھا اس لئے میں دو پہر کا وقت اکثر ان کے دالان کے پیچھے ایک کو ٹھڑی میں گزارا کرتا تھا۔ایک دن حسب معمول میں دو پہر کو اس کو ٹھڑی میں سو رہا تھا میری آنکھ کھلی تو میں نے سنا کہ غلام احمد کی خالہ اور والدہ کہہ رہی تھیں کہ اس رسولے ( یعنی حضرت مولوی غلام رسول صاحب ) کا ہمیں بڑا افسوس ہے کہ گاؤں گاؤں اور گھر گھر میں لوگ اس کی برائی کرتے ہیں۔اس نے تو مرزائی ہو کر ہمارے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس روز برابر کی کو ٹھڑی میں بھائی غلام احمد بھی سویا ہوا تھا۔اس نے بیدار ہوتے ہی ان کی یہ مغلظات سنیں تو کہنے لگا تم کیا بکواس کر رہی ہو۔میں نے تو ابھی ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ غلام رسول پر آسمان سے اتنا نور برس رہا ہے کہ اس نے چاروں طرف سے اس کو گھیر لیا ہے۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ تم جسے برا سمجھتی ہو وہ خدا کے نزدیک برا نہ ہو۔اتنے میں میں بھی کو ٹھڑی سے باہر نکل آیا اور ان کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔بلکہ یہی میاں غلام احمد جس پر اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ سے اتمام حجت کر دی تھی، میرا اتنا مخالف اور دشمن ہو گیا کہ علماء کو بلا کر بھی احمدیت پر حملے کراتا اور مجھے ذلیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔آخر میرے مولا کریم نے میری نصرت کے لئے موضع را جیکی میں طاعون کا عذاب مسلط کیا اور غلام احمد اور اس کے ہمنواؤں کا صفایا کر دیا۔“ حیات قدسی جلد اول صفحہ 39 مطبوعہ ربوہ)