خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 63

خطبات مسرور جلد ہشتم 63 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 اور اس کی پشت پناہی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ فساد پیدا کیا جائے اور جماعت میں رخنہ ڈالا جائے۔باقی جہاں تک مصلح موعود ہونے کا سوال ہے تو اس کی ایسی واضح دلیلیں ہیں کہ کوئی بے وقوف ہی ہو جو اس پر یقین نہ کرے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت ہے۔کہتے ہیں کہ ”خاکسار نے ایک دفعہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں تحریر کیا کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کے بعد حضور کے فیضان سے مجھے غسل دماغ نصیب ہوا ہے۔اب اگر قلبی عنسل اور انارت کا افاضہ حضور کے طفیل ہو جائے تو دماغ کے ساتھ قلب بھی منور ہو جائے۔(یعنی جو باطنی نور ہے وہ بھی مجھ میں پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے عطا فرمادے۔تو کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصہ بعد حضور۔۔۔نے قادیان کی مسجد مبارک میں مجلس علم و عرفان میں تقریر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ہر نماز کے فرضوں کے بعد بارہ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ اور بارہ دفعہ درود شریف پڑھا کریں۔یہ ہدایت زیادہ تر ممبران خدام الاحمدیہ کو تھی لیکن خاکسار نے اسی دن سے اس پر باقاعدہ عمل شروع کر دیا اور آج تک بالالتزام اس ہدایت پر عمل پیرا ہے۔( کہتے ہیں کہ) اس عمل سے بفضلہ تعالیٰ مجھے بہت سے فوائد حاصل ہوئے جن میں سے ایک بڑا فائدہ ہوا کہ مجھے تصفیہ قلب (یعنی دل کی پاکیزگی ) اور تجلیہ روح ( یعنی روح کی روشنی) کے ذریعہ ایک عجیب قسم کی انارت ( محسوس ہوئی۔ایک عجیب قسم کی روشنی) محسوس ہونے لگی اور جس طرح آفتاب و مہتاب کی روشنی کو آنکھ محسوس کرتی ہے اسی طرح میرا قلب دعا کے وقت اکثر کبھی بجلی کے قمقمے کی طرح اور کبھی گیس لیمپ کی طرح منور ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میر اوجود سر سے پاؤں تک باطنی طور پر نورانی ہو گیا ہے اور جب سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی توفیق ملے یا صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود میں سے کسی مقدس وجود کی اقتداء کا موقع نصیب ہو اور نماز بہ قراءت جہر ہو رہی ہو تو بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے ہر ہر لفظ سے نور کی شعاعیں نکل نکل کر میرے قلب پر مستولی رہی ہیں اور اس وقت ایک عجیب نورانی اور سرور بخش منظر محسوس ہوتا ہے۔66 (حیات قدسی صفحہ 593-592 مطبوعہ ربوہ) اور یہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیمِ ایک ایسی دعا ہے جس کے بارہ میں حدیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تم نے فرمایا کہ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ، ثَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيْزَانِ ، حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ - ( صحیح بخاری کتاب الدعوات باب فضل التسبیح حدیث نمبر 2 668) کہ ایسے کلمات جو زبان سے کہنے پہ بہت ہلکے ہیں لیکن ان کا وزن ان کے لحاظ سے بہت بھاری ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں اور یہ وہی ہیں کہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ