خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد ہشتم 61 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 بعد حضور کا چہرہ سیاہ ہو گیا ( نعوذ باللہ )۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اپنے لڑکوں ابراہیم و جان محمد کو ساتھ لے جایا کرتا تھا اور ان کو کہتا تھا کہ یہ حضرت مسیح موعود ہیں۔تو یہ دونوں لڑکے حضور کے پاؤں کو چمٹ جاتے تھے اور حضور بڑے خوش ہوتے تھے اور جب حضور وفات پاگئے میں مع جماعت اور مع اپنے ان بچوں کے قادیان پہنچا اور لڑکوں کو بھی حضور کا چہرہ دکھایا اور آپ بھی دیکھا اور لڑکے بار بار مجھے کہتے۔اے لالہ ! ہمیں میاں کا چہرہ دکھا اور سخت روتے کہ جب ہم آتے تو حضور کو لپٹ جاتے۔اب ہم کس کے ساتھ لپیٹیں گے۔اس طرح کوئی چار دفعہ حضور کا چہرہ ان کو دکھایا۔کہتے ہیں کہ جس طرح ہم سنا کرتے تھے کہ آنحضرت رسول کریم صلی نظم کا حلیہ مبارک ہے ویسا ہی ان کا نورانی چہرہ ہے۔اس سے پہلے نہ کوئی ایسا ہوا اور نہ آئندہ۔گویا کہ رسول کریم صلی کم تو اصل تھے یہ ان کے عکس ہیں۔( یعنی وہ جو نعوذ باللہ دشمنوں نے مشہور کیا ہوا تھا کہ چہرہ سیاہ ہو گیا اور یہ ہو گیا۔ہم تو سنا کرتے تھے آنحضرت صلی الم کے بارہ میں کہ آپ کا چہرہ مبارک نورانی تھا تو یہاں بھی ہمیں نور نظر آیا کیونکہ وہ ظل تھے رسول کریم صلی ال نیم کے )۔اور پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کی اور حضرت مسیح موعود کو اپنے ہاتھوں سے دفنایا۔اس کے بعد ہم گھر واپس آگئے اور پھر کہتے ہیں ہم نے حضرت مسیح موعود کے معجزات بیان کر کے تبلیغ کرنی شروع کی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ۔جلد اوّل۔صفحہ 86 روایات حضرت میاں غلام محمد صاحب ارائیں) میں نے یہ رجسٹر روایات صحابہ میں سے کچھ واقعات لئے تھے۔ویسے تو بے شمار واقعات ہیں۔کبھی موقع ہوا تو انشاء اللہ آئندہ بھی بیان ہوتے رہیں گے۔اب میں بعض ایسی روایات بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے روحانی معیاروں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نور سے حصہ پانے کی وجہ سے اعلیٰ مقام کی نشاندہی کرتی ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے انتخاب خلافت کے وقت بعض دنیا داروں پر ابتلا آیا اور جماعت سے علیحدہ بھی ہو گئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اکثریت کو محفوظ رکھا اور بعض کی فوری راہنمائی بھی فرمائی۔ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد احمد یہ پشاور میں بیٹھا ہوا تھا۔میرے پاس مکرمی میاں شمس الدین صاحب امیر جماعت احمدیہ پشاور بھی بیٹھے ہوئے تھے۔مجھ پر اچانک کشفی حالت طاری ہو گئی۔میں نے دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی تشریف لائے ہیں۔آپ کا دل مجھے سامنے نظر آرہا ہے۔جس میں کئی روشن سورج چمک رہے ہیں۔جن کی چمک اور روشنی بڑے زور کے ساتھ ہمارے اوپر پڑ رہی ہے۔آپ کے دل کے سامنے میرا دل ہے جس میں بلب کی روشنی کے برابر روشنی نظر آتی ہے۔(حیات قدسی صفحہ 295 مطبوعہ ربوہ)