خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 681
خطبات مسرور جلد ہشتم 681 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 دسمبر 2010 تیسری بات میں آج یہ کہنا چاہتا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ میرے نام سے آج کل انٹر نیٹ وغیرہ پر فیس بک (Face Book) ہے۔فیس بک کا ایک اکاؤنٹ کھلا ہوا ہے جس کا میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں۔نہ کبھی میں نے کھولانہ مجھے کوئی دلچسپی ہے بلکہ میں نے تو جماعت کو کچھ عرصہ ہوا اس بارہ میں تنبیہ کی تھی کہ اس فیس بک سے بچھیں۔اس میں بہت ساری قباحتیں ہیں۔پتہ نہیں کسی نے بے وقوفی سے کیا ہے۔کسی مخالف نے کیا ہے یا کسی احمدی نے کسی نیکی کی وجہ سے کیا ہے لیکن جس وجہ سے بھی کیا ہے، بہر حال وہ تو بند کروانے کی کوشش ہو رہی ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہ بند ہو جائے گا۔کیونکہ اس میں قباحتیں زیادہ ہیں اور فائدے کم ہیں۔اور بلکہ انفرادی طور پر بھی میں لوگوں کو کہتا رہتا ہوں کہ یہ جو فیس بک ہے اس سے غلط قسم کی بعض باتیں نکلتی ہیں اور پھر اس شخص کے لئے بھی پر یشانی کا موجب بن جاتی ہیں۔خاص طور پر لڑکیوں کو تو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔لیکن بہر حال میں یہ اعلان کر دینا چاہتا تھا کہ یہ جو فیس بک ہے اور اس میں وہ لوگ جن کے اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ ہیں، وہ آ بھی رہے ہیں، پڑھ بھی رہے ہیں، اپنے منٹس(Comments) بھی دے رہے ہیں جو بالکل غلط طریقہ کار ہے اس لئے اس سے بچیں اور کوئی اس میں شامل نہ ہو۔اگر ایسی کوئی صورت کبھی پیدا ہوئی جس میں جماعتی طور پر کسی قسم کی فیس بک کی طرز کی کوئی چیز جاری کرنی ہوئی تو اس کو محفوظ طریقے سے جاری کیا جائے گا جس میں ہر ایک کی accessنہ ہو اور صرف جماعتی مؤقف اس میں سامنے آئے اور اس میں جس کا دل چاہے آ جائے۔کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض مخالفین نے بھی اپنے کمنٹ (Comment) اس پر دیئے ہوئے ہیں۔اب ایک تو ویسے ہی غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی شخص کے نام پر کوئی دوسرا شخص چاہے وہ نیک نیتی سے ہی کر رہا ہو بغیر اس کو بتائے کام شروع کر دے۔اس لئے جس نے بھی کیا ہے اگر تو وہ نیک نیت تھا تو وہ فوراً اس کو بند کر دے اور استغفار کرے اور اگر شرارتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے خود نیچٹے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور جماعت کو ترقی کی راہوں پر چلاتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 18 شماره 3 مورخہ 21 جنوری تا 27 جنوری 2011 صفحہ 5 تا 8 )