خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 678 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 678

خطبات مسرور جلد ہشتم 678 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31دسمبر 2010 پس اگر نہ ختم ہونے والے اجر لینے ہیں برکات سے فائدہ اٹھانا ہے ، دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھنے ہیں تو اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے۔خوشخبری ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے اپنے ایمان کو نیک اعمال سے سجایا۔جنہوں نے اگر یہ اعلان کیا ہے کہ ہم آنحضرت صلی الم کی پیشگوئی کو پورے ہوتے دیکھ کر زمانے کے امام پر ایمان لائے ہیں تو اپنی حالتوں اور اپنے عملوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔پس آج بھی یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں اس طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے والوں کا حقدار بنانے والی ہو۔ہماری عبادتیں اور ہمارا ہر عمل جو ہے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔اور آج رات اس سال کو الوداع کرنے کے لئے اور نئے سال کے استقبال کے لئے یہ دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے خاص یہ تو فیق چاہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اپنی کمزوریوں کی وجہ سے گزرنے والے سال میں جو ہم نیک اعمال نہیں بجالا سکے ، نئے سال میں ہم ان کو بجالانے والے ہوں۔ایمان کے بیج کو اعمالِ صالحہ کی بر وقت آبپاشی کے ذریعے پروان چڑھانے والے ہوں۔ہمارا اٹھنا ہمارا بیٹھنا خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔ایک طرف تو ہم اس بات پر خوش ہیں کہ جماعت کے ایک طبقہ نے قربانیاں دے کر جماعت کی تبلیغ کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔لیکن دوسری طرف میں ایک یہ بات بھی افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس بعض غیر از جماعت کے ایسے خطوط بھی آتے ہیں کہ فلاں شخص آپ کی جماعت کا ہے، اس نے میرے ساتھ کاروبار کیا تھا، کاروباری شراکت تھی، یا قرض لیا تھا اور اب اس میں دھو کے کا مر تکب ہو رہا ہے۔تو ایسے لوگ جو اس طرح جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں وہ ایسے لوگ ہی ہیں جن کا زبانی دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن یہ جو دعویٰ ہے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ایسے لوگ تو جماعت کی ترقی میں شامل ہونے کی بجائے جماعت کی بدنامی کرنے والوں میں شامل ہیں۔پھر آپس کے تعلقات ہیں۔آپس کے جو تعلقات ایک احمدی کے دوسرے احمدی کے ساتھ ہونے چاہئیں، ایک رشتے کے دوسرے رشتے کے ساتھ ہونے چاہئیں اگر ان حقوق کا پاس نہیں تو پھر ان جگہوں کی برکات سے انسان فیض نہیں پاسکتا۔نہ دعاؤں سے کوئی فیض حاصل کیا جا سکتا ہے۔اعمالِ صالحہ میں تمام حقوق بھی آتے ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک اگر اپنے جائزے لے اور دیکھے کہ گزرنے والے سال میں ہم نے اپنے اندر سے کتنی برائیوں کو دور کیا ہے ؟ ہمارے قربانی کرنے والوں نے ہماری اپنی طبیعتوں میں، ہمارے اپنے رویوں میں کیا انقلاب پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً انفرادی طور پر بھی یہ سال جس کا آغاز اور اختتام بھی جمعہ کو ہوا اور ہو رہا ہے ہمارے لئے برکتوں کا سال ہے۔لیکن اگر ہم دنیا داری میں بڑھتے رہے، اسی میں پڑے رہے اور ایک دوسرے کے حقوق